Sunan Abi Dawood Hadith 2678 (سنن أبي داود)

[2678] إسنادہ ضعیف

مسلم بن عبد اللہ بن خبیب الجھني: مجہول (تقریب التہذیب: 6634)

قال معاذ علي زئي:

مسلم بن عبد اللہ بن خبیب الجھني:

الحاکم: ’’ہذا حديث صحيح علی شرط مسلم ولم يخرجاہ‘‘ (المستدرک: 2571)

الذھبي: ’’علی شرط مسلم‘‘ (تلخیص المستدرک: 2571)

قال الحافظ الہيثمي في المجمع (6/ 203 ح 10343): "رواہ أحمد والطبراني ورجالہ ثقات" (وھو فی المعجم الکبیر: 2/ 178 ح 1726)

محمد بن إسحاق بن یسار قد صرح بالسماع عند ابن أبي خیثمۃ في تاریخہ (السفر الثاني: 351) فالسند حسن. والحمدللہ

وقال ابن حجر العسقلاني: ’’وأشار إلی أن الحديث في مسند أحمد بسند حسن‘‘ (الاصابۃ: 5/ 242) إن کان الحکم من ابن حجر بنفسہ فبھا،ولکن لم یُشر ابن عبد البر کذلک،وانظر التمھید (10/ 185)

انوار الصحیفہ ص 97

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ،عَنْ يَعْقُوبَ ابْنِ عُتْبَةَ،عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللہِ،عَنْ جُنْدُبِ بْنِ مَكِيثٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللہِ ﷺ عَبْدَ اللہِ بْنَ غَالِبٍ اللَّيْثِيَّ فِي سَرِيَّةٍ،وَكُنْتُ فِيہِمْ،وَأَمَرَہُمْ أَنْ يَشُنُّوا الْغَارَةَ عَلَی بَنِي الْمُلَوِّحِ بِالْكَدِيدِ،فَخَرَجْنَا،حَتَّی إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ لَقِينَا الْحَارِثَ بْنَ الْبَرْصَاءِ اللَّيْثِيَّ،فَأَخَذْنَاہُ،فَقَالَ: إِنَّمَا جِئْتُ أُرِيدُ الْإِسْلَامَ،وَإِنَّمَا خَرَجْتُ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ! فَقُلْنَا: إِنْ تَكُنْ مُسْلِمًا لَمْ يَضُرَّكَ رِبَاطُنَا يَوْمًا وَلَيْلَةً،وَإِنْ تَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ،نَسْتَوْثِقُ مِنْكَ،فَشَدَدْنَاہُ وِثَاقًا.

سیدنا جندب بن مکیث رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن غالب لیثی رضی اللہ عنہ کو ایک دستہ دے کر روانہ کیا ‘ میں ان لوگوں میں شامل تھا ‘ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ مقام کدید میں بنی ملوح پر (ہر طرف سے) چڑھائی کرنا۔چنانچہ ہم روانہ ہوئے حتیٰ کہ مقام کدید پر پہنچ گئے۔ہم کو حارث بن برصاء لیثی ملا ‘ ہم نے اس کو پکڑ لیا۔اس نے کہا: میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں اور میں رسول اللہ ﷺ کے ہاں جانے کی نیت ہی سے نکلا ہوں۔ہم نے اس سے کہا: اگر تو فی الواقع مسلمان ہے ‘ تو ہمارا تجھے ایک دن اور رات کے لیے باندھا لینا تیرے لیے کوئی نقصان دہ نہیں ہے۔اور اگر تو ایسے نہ ہوا تو (تجھے باندھ کر) ہم تیری طرف سے بے فکر ہو جائیں گے۔چنانچہ ہم نے اس کو رسی سے جکڑ لیا۔