Sunan Abi Dawood Hadith 2683 (سنن أبي داود)
[2683]إسنادہ حسن
أخرجہ النسائي (4072 وسندہ حسن)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ،قَالَ: حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ, قَالَ: زَعَمَ السُّدِّيُّ،عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ،عَنْ سَعْدٍ, قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ،أَمَّنَ رَسُولُ اللہِ ﷺ النَّاسَ إِلَّا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ،وَسَمَّاہُمْ،وَابْنُ أَبِي سَرْحٍ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ،قَالَ: وَأَمَّا ابْنُ أَبِي سَرْحٍ, فَإِنَّہُ اخْتَبَأَ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ،فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللہِ ﷺ النَّاسَ إِلَی الْبَيْعَةِ, جَاءَ بِہِ حَتَّی أَوْقَفَہُ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللہِ! بَايِعْ عَبْدَ اللہِ،فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَنَظَرَ إِلَيْہِ ثَلَاثًا،كُلُّ ذَلِكَ يَأْبَی،فَبَايَعَہُ بَعْدَ ثَلَاثٍ،ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی أَصْحَابِہِ،فَقَالَ: أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ! يَقُومُ إِلَی ہَذَا،حَيْثُ رَآنِي كَفَفْتُ يَدِي،عَنْ بَيْعَتِہِ فَيَقْتُلُہُ؟. فَقَالُوا: مَا نَدْرِي يَا رَسُولَ اللہِ مَا فِي نَفْسِكَ،أَلَا أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ؟ قَالَ: إِنَّہُ لَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ تَكُونَ لَہُ خَائِنَةُ الْأَعْيُنِ. قَالَ أَبو دَاود: كَانَ عَبْدُ اللہِ أَخَا عُثْمَانَ مِنَ الرِّضَاعَةِ،وَكَانَ الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ أَخَا عُثْمَانَ لِأُمِّہِ،وَضَرَبَہُ عُثْمَانُ الْحَدَّ،إِذْ شَرِبَ الْخَمْرَ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے چار مردوں اور دو عورتوں کے سوا تمام لوگوں کو امان دے دی تھی۔راوی نے ان کے نام گنوائے۔اور ابن ابی سرح بھی تھے۔اور حدیث بیان کی۔ابن ابی سرح سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ہاں چھپ گئے تھے۔رسول اللہ ﷺ نے جب لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا ‘ تو عثمان رضی اللہ عنہ ان (ابن ابی سرح) کو لے آئے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس کھڑا کر دیا اور عرض کیا: اے اﷲ کے نبی! عبداللہ کی بیعت قبول فرما لیجئیے۔آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا ‘ ان کی طرف دیکھا ‘ تین بار اس طرح ہوا ‘ آپ ﷺ نے ہر بار اس کا انکار فرمایا۔تیسری بار کے بعد آپ ﷺ نے ان سے بیعت فرما لی۔پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ’’تم میں کوئی سمجھدار آدمی نہ تھا ‘ جو اس کی طرف اٹھتا ‘ جب دیکھا کہ میں نے اس کی بیعت سے ہاتھ کھینچ لیا ہے تو اس کو قتل کر دیتا؟‘‘ انہوں نے کہا: اے اﷲ کے رسول! ہمیں معلوم نہ تھا کہ آپ کے جی میں کیا ہے؟ آپ ﷺ اپنی آنکھ سے ہمیں اشارہ فرما دیتے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’نبی کو لائق نہیں کہ اس کی آنکھ خائن ہو۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ (عبداللہ بن ابی سرح) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے رضائی بھائی تھے۔اور ولید بن عقبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ماں کی طرف سے بھائی تھے۔انہوں نے جب شراب پی تھی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کو حد لگائی تھی۔