Sunan Abi Dawood Hadith 2690 (سنن أبي داود)

[2690]صحیح

صحیح مسلم (1763)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ،قَالَ:،حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قَالَ،أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ،قَالَ:،حَدَّثَنَا سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ،قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ،قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ،قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ فَأَخَذَ –يَعْنِي: النَّبِيَّ ﷺ-الْفِدَاءَ, أَنْزَلَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ-إِلَی قَوْلِہِ-لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ[الأنفال: 67-68]،مِنَ الْفِدَاءِ،ثُمَّ أَحَلَّ لَہُمُ اللہُ الْغَنَائِمَ. قَالَ أَبو دَاود: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يُسْأَلُ عَنِ اسْمِ أَبِي نُوحٍ فَقَالَ: إِيشْ تَصْنَعُ بِاسْمِہِ اسْمُہُ اسْمٌ شَنِيعٌ. قَالَ أَبو دَاود: اسْمُ أَبِي نُوحٍ قُرَادٌ وَالصَّحِيحُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَزْوَانَ.

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب بدر کا دن تھا اور نبی کریم ﷺ نے قیدیوں سے فدیہ لیا تو اﷲ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ((ما کان لنبی أن یکون لہ أسری حتی یثخن فی الأرض إلی قولہ لمسکم فیما أخذتم)) ’’نبی کو مناسب نہیں کہ اس کے لیے قیدی ہوں یہاں تک کہ (دشمن کو) زمین میں اچھی طرح کچل لے ‘ تم دنیا کا مال چاہتے ہو اور اﷲ آخرت چاہتا ہے ‘ اور اﷲ غالب ہے حکمت والا ہے۔اگر اﷲ کا فیصلہ پہلے سے لکھا ہوا نہ ہوتا تو جو کچھ تم نے (فدیہ) لیا ہے اس پر تمہیں بڑا عذاب پہنچتا۔‘‘ پھر اللہ عزوجل نے ان کے لیے غنیمتوں کو حلال فرما دیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سنا کہ ان سے ابونوح کا نام پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: تم اس کے نام کا کیا کرو گے؟ اس کا نام قبیح سا ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا نام ’’قراد‘‘ ہے (چیچڑی) اور صحیح یہ ہے کہ اس کا نام عبدالرحمٰن بن غزوان ہے۔