Sunan Abi Dawood Hadith 2692 (سنن أبي داود)
[2692]حسن
محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (6/276) وھو فی السیرۃ لابن ھشام (ص653 بتحقیقي) مشکوۃ المصابیح (3970)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ،عَنْ يَحْيَی بْنِ عَبَّادٍ،عَنْ أَبِيہِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَيْرِ،عَنْ عَائِشَةَ،قَالَتْ: لَمَّا بَعَثَ أَہْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أَسْرَاہُمْ،بَعَثَتْ زَيْنَبُ فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ بِمَالٍ،وَبَعَثَتْ فِيہِ بِقِلَادَةٍ لَہَا،كَانَتْ عِنْدَ خَدِيجَةَ،أَدْخَلَتْہَا بِہَا عَلَی أَبِي الْعَاصِ،قَالَتْ: فَلَمَّا رَآہَا رَسُولُ اللہِ ﷺ رَقَّ لَہَا رِقَّةً شَدِيدَةً،وَقَالَ: إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَہَا أَسِيرَہَا وَتَرُدُّوا عَلَيْہَا الَّذِي لَہَا؟،فَقَالُوا: نَعَمْ وَكَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَخَذَ عَلَيْہِ،أَوْ وَعَدَہُ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَ زَيْنَبَ إِلَيْہِ،وَبَعَثَ رَسُولُ اللہِ ﷺ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَرَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ،فَقَالَ: كُونَا بِبَطْنِ يَأْجَجَ،حَتَّی تَمُرَّ بِكُمَا زَيْنَبُ،فَتَصْحَبَاہَا حَتَّی تَأْتِيَا بِہَا.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کے فدیے بھیجے تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا (نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی) نے (اپنے شوہر) ابوالعاص کے فدیہ میں مال بھیجا ‘ اور وہ ہار پیش کیا جو ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان کو ابوالعاص سے شادی کے وقت دیا تھا۔اسے دیکھ کر رسول اللہ ﷺ پر شدید رقت طاری ہوئی اور فرمایا ’’اگر تم مناسب سمجھو تو اس کے قیدی کو اس کے لیے ویسے ہی رہا کر دو اور اس کا ہار اسے واپس کر دو۔‘‘ صحابہ نے اسے بخوشی قبول کیا۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ابوالعاص سے یہ عہد لیا کہ زینب رضی اللہ عنہا کو آپ کی طرف بھیج دے گا۔پھر رسول اللہ ﷺ نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری کو بھیجا اور انہیں کہا: ’’تم وادی یاجج کے دامن میں رکنا حتیٰ کہ زینب تمہارے پاس آ جائے تو پھر اسے ساتھ لے کر آ جانا۔‘‘