Sunan Abi Dawood Hadith 2693 (سنن أبي داود)

[2693]صحیح

صحیح بخاری (2307، 2308)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ،حَدَّثَنَا عَمِّي يَعْنِي سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ قَالَ،أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ،عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ وَذَكَرَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ مَرْوَانَ،وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ،أَخْبَرَاہُ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ-حِينَ جَاءَہُ وَفْدُ ہَوَازِنَ مُسْلِمِينَ،فَسَأَلُوہُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْہِمْ أَمْوَالَہُمْ؟-فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللہِ ﷺ: مَعِي مَنْ تَرَوْنَ،وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُہُ،فَاخْتَارُوا: إِمَّا السَّبْيَ،وَإِمَّا الْمَالَ؟،فَقَالُوا: نَخْتَارُ سَبْيَنَا،فَقَامَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَأَثْنَی عَلَی اللہِ،ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ, فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ ہَؤُلَاءِ جَاءُوا تَائِبِينَ،وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْہِمْ سَبْيَہُمْ،فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ, فَلْيَفْعَلْ،وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَی حَظِّہِ،حَتَّی نُعْطِيَہُ إِيَّاہُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللہُ عَلَيْنَا, فَلْيَفْعَلْ. فَقَالَ النَّاسُ: قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ لَہُمْ يَا رَسُولَ اللہِ،فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ،فَارْجِعُوا حَتَّی يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ،فَرَجَعَ النَّاسُ،وَكَلَّمَہُمْ عُرَفَاؤُہُمْ،فَأَخْبَرُوہُمْ أَنَّہُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا

مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ کا بیان ہے کہ ہوازن کے مسلمان لوگوں کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا تو انہوں نے درخواست کی کہ ہمارا مال واپس کر دیا جائے (جو کہ غزوہ حنین میں مسلمانوں کے قبضہ میں آیا ہے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’میرے ساتھ یہ لوگ ہیں جن کو تم دیکھ رہے ہو (مجاہدین) اور مجھے بات وہ پسند ہے جو سچی ہو ‘ تم لوگ دو میں سے ایک چیز اختیار کر لو،قیدی یا مال۔‘‘ انہوں نے کہا: ہم اپنے قیدیوں کو اختیار کرتے ہیں ‘ (انہیں رہا کر دیا جائے) تو رسول اللہ ﷺ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے ‘ اللہ عزوجل کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا ’’تمہارے یہ بھائی تائب ہو کر آئے ہیں،میں نے یہ مناسب سمجھا ہے کہ ان کے قیدی ان کو واپس کر دوں ‘ تو تم میں سے بھی جو خوشی خوشی یہ کام کرنا چاہے کرے ‘ اور جو پسند کرے کہ (اس کے قیدی کے بدلے) اسے اس کا حصہ دیا جائے تو یہ ہمارے ذمے رہا اور پہلی پہلی غنیمت جو اﷲ ہمیں دے گا اس میں سے ہم اس کا حق ادا کریں گے۔‘‘ لوگوں نے کہا: اے اﷲ کے رسول! ہم ان کے لیے بخوشی یہ کام کرتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’ہم پر یہ واضح نہیں ہے کہ تم میں سے کس نے اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی ‘ لہٰذا تم جاؤ حتیٰ کہ تمہارے نمائندے ہمیں آ کر تمہارا معاملہ بتائیں۔‘‘ چنانچہ وہ لوگ لوٹ گئے ‘ ان کے امیروں اور نمائندوں نے ان سے (کھل کر) بات کی ‘ تو ان نمائندوں نے آ کر بتایا کہ ہمارے لوگ خوشی سے انہیں (آزاد کرنے کی) اجازت دے رہے ہیں۔