Sunan Abi Dawood Hadith 2711 (سنن أبي داود)
[2711]صحیح
صحیح بخاری (6707) صحیح مسلم (115)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ،عَنْ مَالِكٍ،عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدَّيْلِيِّ،عَنْ أَبِي الْغَيْثِ مَوْلَی ابْنِ مُطِيعٍ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،أَنَّہُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ عَامَ خَيْبَرَ فَلَمْ نَغْنَمْ ذَہَبًا وَلَا وَرِقًا, إِلَّا الثِّيَابَ،وَالْمَتَاعَ،وَالْأَمْوَالَ،قَالَ: فَوَجَّہَ رَسُولُ اللہِ ﷺ نَحْوَ وَادِي الْقُرَی،وَقَدْ أُہْدِيَ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ عَبْدٌ أَسْوَدُ،يُقَالُ لَہُ: مِدْعَمٌ،حَتَّی إِذَا كَانُوا بِوَادِي الْقُرَی،فَبَيْنَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللہِ ﷺ،إِذْ جَاءَہُ سَہْمٌ فَقَتَلَہُ،فَقَالَ النَّاسُ: ہَنِيئًا, لَہُ الْجَنَّةُ،فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: كَلَّا،وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِہِ إِنَّ الشَّمْلَةَ-الَّتِي أَخَذَہَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْہَا الْمَقَاسِمُ-لَتَشْتَعِلُ عَلَيْہِ نَارًا. فَلَمَّا سَمِعُوا ذَلِكَ،جَاءَ رَجُلٌ بِشِرَاكٍ أَوْ شِرَاكَيْنِ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: شِرَاكٌ مِنْ نَارٍ-أَوْ قَالَ: شِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم خیبر کے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے تو ہمیں سونے چاندی کی بجائے عام کپڑے اور دیگر مال و متاع غنیمت میں حاصل ہوا۔پھر آپ ﷺ وادی القریٰ کی طرف روانہ ہو گئے۔آپ کو ایک غلام ہدیہ کیا گیا تھا جس کا نام مدعم تھا۔جب ہم وادی القریٰ پہنچے اور مدعم رسول اللہ ﷺ کے اونٹ سے پالان اتار رہا تھا کہ اسے ایک تیر آن لگا جس سے وہ قتل ہو گیا۔لوگوں نے کہا: اسے جنت مبارک ہو (کہ اسے دوران جہاد میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت کرتے ہوئے موت آئی ہے) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ہرگز نہیں،قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بلاشبہ وہ چادر جو اس نے خیبر کے روز تقسیم سے پہلے غنیمت میں سے اٹھائی تھی وہ اس پر آگ بن کر بھڑک رہی ہے۔‘‘ لوگوں نے جب یہ سنا تو کوئی ایک تسمہ لے آیا تو کوئی دو تسمے اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے کر دیے۔پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ایک تسمہ آگ کا تھا۔‘‘ یا فرمایا ’’دو تسمے آگ کے تھے۔‘‘