Sunan Abi Dawood Hadith 2710 (سنن أبي داود)
[2710]إسنادہ حسن✷
أخرجہ النسائي (1961 وسندہ حسن) وابن ماجہ (2848 وسندہ حسن) أبو عمرۃ الأنصاري حسن الحدیث مشکوۃ المصابیح (4011)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ أَنَّ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ وَبِشْرَ بْنَ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَاہُمْ،عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ،عَنْ أَبِي عَمْرَةَ،عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِيِّ،أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ تُوُفِّيَ يَوْمَ خَيْبَرَ،فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ،فَقَالَ: صَلُّوا عَلَی صَاحِبِكُمْ!. فَتَغَيَّرَتْ وُجُوہُ النَّاسِ لِذَلِكَ،فَقَالَ: إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللہِ. فَفَتَّشْنَا مَتَاعَہُ،فَوَجَدْنَا خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَہُودَ،لَا يُسَاوِي دِرْہَمَيْنِ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ خیبر کے روز اصحاب نبی کریم ﷺ میں سے ایک شخص وفات پا گیا۔لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’تم لوگ اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو۔‘‘ اس سے لوگوں کے چہرے فق ہو گئے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تمہارے اس ساتھی نے اﷲ کی راہ میں ہوتے ہوئے خیانت (یا چوری) کی ہے۔‘‘ ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں ایسے مونگے ملے جو یہودی لوگ استعمال کرتے تھے (شاید ان کی عورتیں استعمال کرتی ہوں) ان کی قیمت دو درہم بھی نہ تھی۔
✷قال معاذ علي زئي: أبو عمرۃ الأنصاري: قال الحاکم: ’’أبو عمرة ہذا رجل من جہينة معروف بالصدق‘‘ (المستدرک: 1/ 518 ح 1346 ونقل ابن عبد الھادي عنہ: ’’أبو عمرة جہني،صدوق‘‘ تنقیح التحقیق: 2/ 665) وصحح حدیثہ علی شرط البخاري ومسلم (المستدرک: 2/ 138 ح 2582) ووافقہ الذھبي،وذکرہ ابن حبان فی الثقات کما أشار ابن حجر العسقلاني فی التھذیب (15/ 489 طبع دبئي) وصحح حدیثہ (الإحسان: 11/ 470 ح 5079،موارد: 4833) وروی لہ ابن الجارود فی المنتقی (1159) وقال ابن عساکر في حدیثہ: ’’وھو حدیث حسن‘‘ (معجم ابن عساکر: 2/ 995 ح 1273) وقال الترمذي في حدیثہ: ’’وہو حديث صحيح‘‘ (سنن الترمذي: 2296) واحتج بہ الإمام أحمد کما قال ابن عبد الھادي (تنقیح التحقیق: 2/ 665) وروی لہ الإمام مالک فی الموطأ کما في حلیۃ الأولیائ (6/ 347)