Sunan Abi Dawood Hadith 2718 (سنن أبي داود)

[2718]صحیح

صحیح مسلم (1809)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،قَالَ:،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَوْمَئِذٍ –يَعْنِي: يَوْمَ حُنَيْنٍ-: مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَہُ سَلَبُہُ. فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا،وَأَخَذَ أَسْلَابَہُمْ،وَلَقِيَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَمَعَہَا خِنْجَرٌ،فَقَالَ: يَا أُمَّ سُلَيْمٍ! مَا ہَذَا مَعَكِ؟ قَالَتْ: أَرَدْتُ وَاللہِ إِنْ دَنَا مِنِّي بَعْضُہُمْ أَبْعَجُ بِہِ بَطْنَہُ،فَأَخْبَرَ بِذَلِكَ أَبُو طَلْحَةَ رَسُولَ اللہِ ﷺ. قَالَ أَبو دَاود: ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ. قَالَ أَبو دَاود: أَرَدْنَا بِہَذَا الْخِنْجَرَ،وَكَانَ سِلَاحَ الْعَجَمِ يَوْمَئِذٍ الْخِنْجَرُ.

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حنین والے دن فرمایا تھا‘‘ جس نے کسی کافر کو قتل کیا ہو تو اس کا سلب (اسباب) اسی قاتل کا ہے۔‘‘ چنانچہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسی دن بیس آدمیوں کو قتل کیا اور ان کا سلب بھی حاصل کیا۔ابوطلحہ رضی اللہ عنہ (اپنی بیوی) ام سلیم سے ملے جبکہ ان کے (ام سلیم) کے پاس خنجر تھا،تو پوچھا اے ام سلیم! یہ تیرے پاس کیا ہے؟ کہنے لگیں: اﷲ کی قسم! میرا ارادہ یہ ہے کہ ان کافروں میں سے کوئی میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ چیر دوں گی۔پھر ابوطلحہ نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو بھی بتائی۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اور اس حدیث کے بیان سے ہمارا مقصد خنجر کے متعلق بتانا ہے (کہ بطور اسلحہ اس کا استعمال جائز ہے) کہ ان دنوں عجمی لوگ ہی اسے استعمال کرتے تھے۔