Sunan Abi Dawood Hadith 2730 (سنن أبي داود)

[2730]إسنادہ صحیح

أخرجہ الترمذي (1557 وسندہ صحیح) مشکوۃ المصابیح (4005)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ،حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ،قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ-مَوْلَی آبِي اللَّحْمِ-قَال:َ شَہِدْتُ خَيْبَرَ مَعَ سَادَتِي،فَكَلَّمُوا فِيَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ،فَأَمَرَ بِي،فَقُلِّدْتُ سَيْفًا،فَإِذَا أَنَا أَجُرُّہُ،فَأُخْبِرَ أَنِّي مَمْلُوكٌ،فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ،قَالَ أَبو دَاود: مَعْنَاہُ: أَنَّہُ لَمْ يُسْہِمْ لَہُ. قَالَ أَبو دَاود: وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ كَانَ حَرَّمَ اللَّحْمَ عَلَی نَفْسِہِ فَسُمِّيَ آبِي اللَّحْمِ

سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ جو کہ سیدنا آبی اللحم رضی اللہ عنہ کے غلام تھے،بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے مالکوں کے ساتھ غزوہ خیبر میں حاضر ہوا تو انہوں نے میرے متعلق رسول اللہ ﷺ سے بات کی،تو آپ ﷺ نے میرے متعلق حکم دیا،میری گردن میں ایک تلوار لٹکا دی گئی،میں اسے گھسیٹنے لگا۔پھر آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہ غلام ہے تو آپ ﷺ نے میرے متعلق فرمایا اور مجھے گھر کے اسباب میں سے کچھ بطور انعام دیا گیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ نے غنیمت میں سے حصہ نہیں دیا تھا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا ہے: ابو عبید نے بیان کیا کہ راوی حدیث (آبی اللحم) کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ انہوں نے گوشت کو اپنے لیے حرام کر لیا تھا اس لیے انہیں ’’آبی اللحم‘‘ کہا جاتا تھا (گوشت سے انکار کرنے والا)۔