Sunan Abi Dawood Hadith 2729 (سنن أبي داود)
[2729] إسنادہ ضعیف
حشرج بن زیاد: لا یعرف ولم یوثقہ غیر ابن حبان وقال الحافظ فی التلخیص الحبیر (104/3): ’’مجہول‘‘
قال معاذ علي زئي:
وقال ابن الأثیر الجزري: ’’وفي إسناد حديثہ نظر‘‘ (جامع الأصول: 12/ 312)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُہُ قَالَا،أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ،قَالَ:،حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ زِيَادٍ،حَدَّثَنِي حَشْرَجُ بْنُ زِيَادٍ،عَنْ جَدَّتِہِ أُمِّ أَبِيہِ أَنَّہَا: خَرَجَتْ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ, سَادِسَ سِتِّ نِسْوَةٍ،فَبَلَغَ رَسُولَ اللہِ ﷺ،فَبَعَثَ إِلَيْنَا،فَجِئْنَا،فَرَأَيْنَا فِيہِ الْغَضَبَ،فَقَالَ: مَعَ مَنْ خَرَجْتُنَّ؟ وَبِإِذْنِ مَنْ خَرَجْتُنَّ؟،فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللہِ! خَرَجْنَا نَغْزِلُ الشَّعَرَ،وَنُعِينُ بِہِ فِي سَبِيلِ اللہِ،وَمَعَنَا دَوَاءُ الْجَرْحَی،وَنُنَاوِلُ السِّہَامَ،وَنَسْقِي السَّوِيقَ،فَقَالَ: قُمْنَ،حَتَّی إِذَا فَتَحَ اللہُ عَلَيْہِ خَيْبَرَ, أَسْہَمَ لَنَا كَمَا أَسْہَمَ لِلرِّجَالِ،قَالَ: قُلْتُ لَہَا: يَا جَدَّةُ! وَمَا كَانَ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: تَمْرًا.
سیدنا حشرج بن زیاد اپنی دادی (ام زیاد اشجعیہ رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک ہوئی تھیں اور وہ چھ میں سے چھٹی عورت تھی،کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے ہمیں بلوا بھیجا۔ہم حاضر خدمت ہوئیں تو ہم نے آپ ﷺ کو غصے میں دیکھا۔فرمایا ’’تم کس کے ساتھ اور کس کی اجازت سے آئی ہو؟‘‘ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آئی ہیں بال بٹتی ہیں،اور اس سے جہاد میں مدد کرتی ہیں،ہمارے پاس زخمیوں کے لیے دوا دارو بھی ہے،ہم تیر اکٹھے کر کے دیتی ہیں اور ستو پلاتی ہیں۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جاؤ۔‘‘ (کوئی بات نہیں) حتیٰ کہ جب اللہ نے آپ ﷺ کے لیے خیبر فتح کر دیا تو آپ ﷺ نے ہمیں بھی حصہ عنایت فرمایا جیسے کہ مردوں کو دیا تھا۔میں نے پوچھا دادی اماں! وہ کیا تھا؟ کہا: کھجور۔