Sunan Abi Dawood Hadith 2751 (سنن أبي داود)
[2751]حسن
ابن إسحاق صرح بالسماع عند البیھقي (8/29) وتابعہ یحیی بن سعید وعبد الرحمن بن الحارث وغیرھما وانظر الحدیث الآتي (4531)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ،حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ہُوَ مُحَمَّدٌ بِبَعْضِ ہَذَا ح،وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ابْنِ مَيْسَرَةَ،حَدَّثَنِي ہُشَيْمٌ،عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ جَمِيعًا،عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُہُمْ،يَسْعَی بِذِمَّتِہِمْ أَدْنَاہُمْ،وَيُجِيرُ عَلَيْہِمْ أَقْصَاہُمْ،وَہُمْ يَدٌ عَلَی مَنْ سِوَاہُمْ،يَرُدُّ مُشِدُّہُمْ عَلَی مُضْعِفِہِمْ،وَمُتَسَرِّيہِمْ عَلَی قَاعِدِہِمْ،لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ،وَلَا ذُو عَہْدٍ فِي عَہْدِہِ. وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ إِسْحَاقَ الْقَوَدَ وَالتَّكَافُؤَ
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ (شعیب) اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’سب مسلمانوں کے خون آپس میں برابر ہیں۔(حدود کے نفاذ میں معزز اور غیر معزز کا کوئی فرق نہیں) ان میں سے جو بھی کسی کافر کو امان دیدے تو ان کا ادنیٰ فرد بھی اس کا پاس رکھے (جیسے کہ اعلیٰ رکھتے ہیں) اور ان میں کا دور والا بھی امان دے سکتا ہے (جیسے کہ مرکز میں رہنے والا) تمام مسلمان کفار کے مقابلے میں ایک ہاتھ ہیں ‘ ان کا تنومند اور قوی رفتار اپنے ضعیف اور سست رفتار کو بھی ساتھ ملائے اور چھوٹے دستے میں جانے والا بڑے لشکر میں رہ جانے والوں کو بھی شریک سمجھے ‘ کسی مومن کو کافر کے بدلے میں یا کسی عہد والے کو جب تک کہ اس کا عہد باقی ہو قتل کرنا روا نہیں۔‘‘ ابن اسحٰق نے اپنی روایت میں قصاص اور خون برابر ہونے کا ذکر نہیں کیا۔