Sunan Abi Dawood Hadith 2750 (سنن أبي داود)

[2750]إسنادہ حسن

ولہ شاھد عند الترمذي (1561) مشکوۃ المصابیح (4007)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيَّانِ الْمَعْنَی،قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ،قَالَ:،حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ،قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَہْبٍ يَقُولُ سَمِعْتُ مَكْحُولًا،يَقُولُ: كُنْتُ عَبْدًا-بِمِصْرَ-لِامْرَأَةٍ مِنْ بَنِي ہُذَيْلٍ-،فَأَعْتَقَتْنِي،فَمَا خَرَجْتُ مِنْ مِصْرَ وَبِہَا عِلْمٌ،إِلَّا حَوَيْتُ عَلَيْہِ فِيمَا أُرَی،ثُمَّ أَتَيْتُ الْحِجَازَ،فَمَا خَرَجْتُ مِنْہَا وَبِہَا عِلْمٌ إِلَّا حَوَيْتُ عَلَيْہِ, فِيمَا أُرَی،ثُمَّ أَتَيْتُ الْعِرَاقَ فَمَا خَرَجْتُ مِنْہَا وَبِہَا عِلْمٌ إِلَّا حَوَيْتُ عَلَيْہِ فِيمَا أُرَی،ثُمَّ أَتَيْتُ الشَّامَ فَغَرْبَلْتُہَا،كُلُّ ذَلِكَ أَسْأَلُ عَنِ النَّفَلِ،فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي فِيہِ بِشَيْءٍ،حَتَّی لَقِيتُ شَيْخًا يُقَالُ لَہُ: زِيَادُ بْنُ جَارِيَةَ التَّمِيمِيُّ،فَقُلْتُ لَہُ: ہَلْ سَمِعْتَ فِي النَّفَلِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ،سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ الْفِہْرِيَّ،يَقُولُ: شَہِدْتُ النَّبِيَّ ﷺ نَفَّلَ الرُّبُعَ فِي الْبَدْأَةِ،وَالثُّلُثَ فِي الرَّجْعَةِ

سیدنا مکحول (شامی رحمہ اللہ) بیان کرتے ہیں کہ میں مصر میں بنی ہذیل کی ایک عورت کا غلام تھا۔اس نے مجھے آزاد کر دیا۔پھر میں وہاں (مصر) سے اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ اپنی دانست کے مطابق وہاں کے علماء سے تمام کا تمام علم حاصل نہیں کر لیا۔پھر میں حجاز آیا اور ہاں سے اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ اپنی دانست کے مطابق وہاں کا تمام علم جمع نہیں کر لیا۔پھر عراق آیا اور وہاں سے اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ اپنی دانست کے مطابق وہاں کا تمام علم جمع نہیں کر لیا۔پھر میں شام آیا اور اس (کے علماء) کو خوب کریدا اور ہر ایک سے میں غنیمت میں نفل (اضافی انعام) کے متعلق سوال کرتا رہا تو مجھے کوئی نہ ملا جو مجھے اس بارے میں کچھ بتاتا۔بالآخر میں ایک شیخ سے ملا جس کا نام زیاد بن جاریہ تمیمی تھا،میں نے اس سے پوچھا: کیا آپ نے نفل کے متعلق کچھ سنا ہے؟ اس نے کہا: ہاں! میں نے حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے،فرما رہے تھے: میں نبی کریم ﷺ کے ہاں حاضر تھا کہ آپ نے شروع جہاد میں چوتھا حصہ اور لوٹتے وقت (دوسری بار حملہ کرنے کی صورت میں) تیسرا حصہ بطور نفل (اضافی انعام) عنایت فرمایا تھا۔