Sunan Abi Dawood Hadith 2758 (سنن أبي داود)

[2758]إسنادہ صحیح

مشکوۃ المصابیح (3981)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ وَہْبٍ،أَخْبَرَنِي عَمْرٌو،عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ،أَنَّ أَبَا رَافِعٍ أَخْبَرَہُ قَالَ: بَعَثَتْنِي قُرَيْشٌ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ, أُلْقِيَ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامُ،فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنِّي –وَاللہِ-لَا أَرْجِعُ إِلَيْہِمْ أَبَدًا! فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِنِّي لَا أَخِيسُ بِالْعَہْدِ،وَلَا أَحْبِسُ الْبُرُدَ،وَلَكِنِ ارْجِعْ،فَإِنْ كَانَ فِي نَفْسِكَ الَّذِي فِي نَفْسِكَ الْآنَ فَارْجِعْ!. قَالَ: فَذَہَبْتُ،ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَأَسْلَمْتُ. قَالَ بُكَيْرٌ: وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا رَافِعٍ كَانَ قِبْطِيًّا. قَالَ أَبو دَاود: ہَذَا كَانَ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا يَصْلُحُ.

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (صلح حدیبیہ کے موقع پر) قریشیوں نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی طرف روانہ کیا۔جب میں نے آپ ﷺ کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی رغبت ڈال دی گئی ‘ پس میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو اللہ کی قسم کبھی بھی اب ان کی طرف نہیں جاؤں گا۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’میں عہد کو نہیں توڑتا اور نہ قاصدوں کو قید کرتا ہوں ‘ تمہیں چاہیئے کہ واپس جاؤ ‘ اگر تمہارے دل میں وہی بات رہے جو اب ہے تو واپس آ جانا۔‘‘ کہتے ہیں میں واپس گیا ‘ پھر نبی ﷺ کی خدمت میں لوٹ آیا اور اسلام قبول کر لیا۔بکیر کہتے ہیں مجھے (حسن بن علی نے) بتایا کہ (اس کا دادا) ابورافع قبطی غلام تھا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس زمانے میں تھا (کہ قاصد مسلمان ہونا چاہ رہا تھا تو اسے واپس کر دیا) آج درست نہیں ہے۔