Sunan Abi Dawood Hadith 2759 (سنن أبي داود)

[2759]إسنادہ صحیح

أخرجہ الترمذي (1580 وسندہ صحیح) مشکوۃ المصابیح (3980)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ،قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،عَنْ أَبِي الْفَيْضِ،عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ-رَجُلٌ مِنْ حِمْيَرَ-،قَالَ: كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ وَبَيْنَ الرُّومِ عَہْدٌ،وَكَانَ يَسِيرُ نَحْوَ بِلَادِہِمْ،حَتَّی إِذَا انْقَضَی الْعَہْدُ غَزَاہُمْ،فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَی فَرَسٍ-أَوْ بِرْذَوْنٍ-،وَہُوَ يَقُولُ: اللہُ أَكْبَرُ،اللہُ أَكْبَرُ،وَفَاءٌ لَا غَدَرَ،فَنَظَرُوا،فَإِذَا عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ،فَأَرْسَلَ إِلَيْہِ مُعَاوِيَةُ فَسَأَلَہُ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ, يَقُولُ: مَنْ كَانَ بَيْنَہُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَہْدٌ،فَلَا يَشُدُّ عُقْدَةً،وَلَا يَحُلُّہَا،حَتَّی يَنْقَضِيَ أَمَدُہَا،أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْہِمْ عَلَی سَوَاءٍ, فَرَجَعَ مُعَاوِيَةُ.

سیدنا سلیم بن عامر رحمہ اللہ سے روایت ہے اور یہ قبیلہ حمیر سے تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور رومیوں کے درمیان معاہدہ (صلح و امن) ہو چکا تھا اور (معاویہ رضی اللہ عنہ ان ایام معاہدہ میں) ان کے علاقوں کی طرف کوچ کر رہے تھے تاکہ جونہی معاہدے کی مدت ختم ہو (اچانک) ان پر چڑھائی کر دیں ‘ تو عربی گھوڑے یا ترکی گھوڑے پر سوار ایک شخص ان کی طرف آیا۔’’وہ ((اللہ اکبر،اللہ اکبر)) وفاداری ہو ‘ غدر نہیں ‘ پکارتا آ رہا تھا۔لوگوں نے دیکھا تو وہ صحابی رسول سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ تھے۔معاویہ رضی اللہ عنہ نہ انہیں بلوایا اور پوچھا ‘ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے ’’جس کا دوسری قوم سے کوئی معاہدہ ہو تو وہ اس وقت تک کوئی نیا معاہدہ نہ کرے اور نہ اسے ختم کرے جب تک کہ پہلے معاہدے کی مدت باقی ہو یا برابری کی سطح پر اسے توڑنے کا اعلان کر دے۔‘‘ چنانچہ معاویہ رضی اللہ عنہ لوٹ آئے۔