Sunan Abi Dawood Hadith 2786 (سنن أبي داود)
[2786] إسنادہ ضعیف
أبو إسحاق عنعن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ،أَخْبَرَنِي أَبِي،عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ،عَنْ ذِي الْجَوْشَنِ-رَجُلٍ مِنَ الضِّبَابِ-،قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ-بَعْدَ أَنْ فَرَغَ مِنْ أَہْلِ بَدْرٍ-بِابْنِ فَرَسٍ لِي-يُقَالُ لَہَا: الْقَرْحَاءُ-،فَقُلْتُ: يَا مُحَمَّدُ! إِنِّي قَدْ جِئْتُكَ بِابْنِ الْقَرْحَاءِ, لِتَتَّخِذَہُ،قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِيہِ،وَإِنْ شِئْتَ أَنْ أَقِيضَكَ بِہِ الْمُخْتَارَةَ مِنْ دُرُوعِ بَدْرٍ،فَعَلْتُ،قُلْتُ: مَا كُنْتُ أَقِيضُہُ الْيَوْمَ بِغُرَّةٍ،قَالَ: فَلَا حَاجَةَ لِي فِيہِ
بنو ضباب کے ایک شخص ذی الجوشن سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب اہل بدر سے فارغ ہو گئے تو میں آپ ﷺ کی خدمت میں گھوڑے کا ایک بچھیرا لے کر حاضر ہوا اور کہا: اے محمد! میں آپ کے پاس ابن قرحاء (ایک بچھیرا) لے کر آیا ہوں یہ آپ اپنے لیے لے لیجئیے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’مجھے اس کی ضرورت نہیں ‘ لیکن اگر تم چاہو تو تمہیں اس کے بدلے بدر کی منتخب زرہوں میں سے کوئی دے دوں ‘ تو کر سکتا ہوں۔‘‘ میں نے کہا: آج تو میں اس کے بدلے میں کوئی گھوڑی بھی نہیں لوں گا۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تو پھر مجھے بھی اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘