Sunan Abi Dawood Hadith 2785 (سنن أبي داود)

[2785] إسنادہ ضعیف

عبید اللہ بن سلمان مجھول (تقریب: 4298)

و لم یوثقہ أحد فیما أعلم

انوار الصحیفہ ص 100

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ،حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ،عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ, أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ, يَقُولُ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللہِ بْنُ سَلْمَانَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ حَدَّثَہُ،قَالَ: لَمَّا فَتَحْنَا خَيْبَرَ, أَخْرَجُوا غَنَائِمَہُمْ مِنَ الْمَتَاعِ وَالسَّبْيِ،فَجَعَلَ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ غَنَائِمَہُمْ،فَجَاءَ رَجُلٌ حِينَ صَلَّی رَسُولُ اللہِ ﷺ،فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ! لَقَدْ رَبِحْتُ رِبْحًا مَا رَبِحَ الْيَوْمَ مِثْلَہُ أَحَدٌ مِنْ أَہْلِ ہَذَا الْوَادِي! قَالَ: وَيْحَكَ! وَمَا رَبِحْتَ؟،قَالَ: مَا زِلْتُ أَبِيعُ وَأَبْتَاعُ،حَتَّی رَبِحْتُ ثَلَاثَ مِائَةِ أُوقِيَّةٍ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: أَنَا أُنَبِّئُكَ بِخَيْرِ رَجُلٍ رَبِحَ!،قَالَ: مَا ہُوَ يَا رَسُولَ اللہِ؟ قَالَ: رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الصَّلَاةِ.

نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص نے عبیداللہ بن سلمان سے بیان کیا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو لوگوں نے اپنی اپنی غنیمتیں نکالیں۔(یعنی) سامان اور قیدی اور انہیں بیچنے لگے۔نبی کریم ﷺ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے اﷲ کے رسول! میں نے آج اتنا نفع حاصل کیا ہے کہ اس وادی والوں میں سے کسی کو کیا ملا ہو گا۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تو نے کیا کما لیا ہے؟ اس نے کہا: میں بیچتا رہا اور خریدتا رہا حتیٰ کہ تین سو اوقیہ کا نفع حاصل کر لیا ہے۔(ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’میں تمہیں بتاتا ہوں کہ نفع کمانے میں سب سے افضل کون ہے؟‘‘ اس نے پوچھا: وہ کیا ہے اے اﷲ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا ’’دو رکعتیں (فرض) نماز کے بعد۔‘‘