Sunan Abi Dawood Hadith 2788 (سنن أبي داود)
[2788] إسنادہ ضعیف
ترمذی (1518) نسائی (4229) ابن ماجہ (3125)
أبو رملۃ مجھول الحال،جھلہ ابن القطان وغیرہ
والحدیث الآتي (الأصل: 2830) یغني عنہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا يَزِيدُ ح،وحَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ،حَدَّثَنَا بِشْرٌ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَوْنٍ،عَنْ عَامِرٍ أَبِي رَمْلَةَ قَالَ،أَخْبَرَنَا مِخْنَفُ بْنُ سُلَيْمٍ،قَالَ: وَنَحْنُ وُقُوفٌ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ بِعَرَفَاتٍ،قَالَ: يَا أَيُّہَا النَّاسُ! إِنَّ عَلَی كُلِّ أَہْلِ بَيْتٍ-فِي كُلِّ عَامٍ-أُضْحِيَّةً وَعَتِيرَةً،أَتَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ؟ ہَذِہِ الَّتِي يَقُولُ النَّاسُ: الرَّجَبِيَّةُ. قَالَ أَبو دَاود: الْعَتِيرَةُ مَنْسُوخَةٌ ہَذَا خَبَرٌ مَنْسُوخٌ.
سیدنا مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عرفات میں وقوف کیے ہوئے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ’’لوگو! بیشک ہر گھر والوں پر ہر سال قربانی ہے اور عتیرہ۔کیا جانتے ہو کہ عتیرہ کیا ہے؟ یہی جسے لوگ ((رجبیۃ)) کہتے ہیں۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں عتیرہ (یعنی ((رجبیۃ))) منسوخ ہے اور یہ حدیث منسوخ ہے۔