Sunan Abi Dawood Hadith 2789 (سنن أبي داود)
[2789]إسنادہ حسن✷
عیسی بن ھلال: صدوق، و ثقہ ابن حبان والحاکم وغیرھما و حدیثہ حسن مشکوۃ المصابیح (1479)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللہِ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ يَزِيدَ،حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ،حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ،عَنْ عِيسَی بْنِ ہِلَالٍ الصَّدَفِيِّ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ،أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ: قَال:َ أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَی عِيدًا جَعَلَہُ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ لِہَذِہِ الْأُمَّةِ. قَالَ الرَّجُلُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا أُضْحِيَّةً أُنْثَی! أَفَأُضَحِّي بِہَا؟ قَالَ: لَا, وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ،وَأَظْفَارِكَ،وَتَقُصُّ شَارِبَكَ،وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ،فَتِلْكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہنبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’مجھے اضحیٰ کے دن کے متعلق حکم دیا گیا ہے کہ اسے بطور عید مناؤں جسے کہ اللہ عزوجل نے اس امت کے لیے خاص کیا ہے۔‘‘ ایک آدمی نے کہا: فرمائیے کہ اگر مجھے دودھ کے جانور کے سوا کوئی جانور نہ ملے تو کیا میں اس کی قربانی کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’نہیں ‘ بلکہ اپنے بال کاٹ لو ‘ ناخن اور مونچھیں تراش لو اور زیر ناف کی صفائی کر لو۔اﷲ کے ہاں تمہاری یہی کامل قربانی ہو گی۔‘‘
✷قال معاذ علي زئي: عیسی بن ہلال الصدفي ثقۃ صحیح الحدیث،قد ذکرہ یعقوب بن سفیان الفارسي من ’’ثقات التابعين من أہل مصر‘‘ (المعرفۃ والتاریخ: 2/ 515) وقال ابن حجر: ’’صدوق‘‘ (تقریب: 5337) وقال الترمذي في حدیثہ: ’’ہذا حديث إسنادہ حسن‘‘ (سننہ: 2588) وذکرہ ابن حبان فی الثقات (5/ 213) وری لہ في صحیحہ (الإحسان: 3/ 50 ح 733،وعدۃ من أحادیثہ) وقال الحاکم في حدیثہ: ’’صحيح الإسناد‘‘ (المستدرک: 2640) ووافقہ الذھبي وقال ابن عبد الھادي في حدیثہ: ’’إسناد ہذا الحديث جيد‘‘ (تنقیح التحقیق: 1348) وقال الذھبي في حدیثہ: ’’قلت: سندہ جيد‘‘ (تنقیح التحقیق: 1/ 300)