Sunan Abi Dawood Hadith 2865 (سنن أبي داود)

[2865]صحیح

صحیح بخاری (1419) صحیح مسلم (1032)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ ﷺ يَا رَسُولَ اللہِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ حَرِيصٌ تَأْمُلُ الْبَقَاءَ وَتَخْشَی الْفَقْرَ وَلَا تُمْہِلَ حَتَّی إِذَا بَلَغَتْ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’تو صدقہ کرے اس حالت میں جبکہ تو صحت مند ہو ‘ مال کا حریص ہو ‘ زندگی کی امید رکھتا ہو اور فقیر ہو جانے کا کھٹکا لگا رہتا ہو۔جو کچھ دینے کا ارادہ ہو تو اس میں ڈھیل نہ کر حتیٰ کہ جب جان حلق میں آن اٹکے تو کہنے لگے: فلاں کے لیے اتنا ہے اور فلاں کے لیے اتنا ‘ حالانکہ وہ فلاں کا ہو چکا ہے۔‘‘ (وراثت کی بنا پر)۔