Sunan Abi Dawood Hadith 287 (سنن أبي داود)
[287] إسنادہ ضعیف
ترمذی (128)،ابن ماجہ (622،627)
ابن عقیل: ضعیف
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا زُہَيْرُ بْنُ حَرْبٍ،وَغَيْرُہُ،قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو: حَدَّثَنَا زُہَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ عَقِيلٍ،عَنْ إِبْرَاہِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ،عَنْ عَمِّہِ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ،عَنْ أُمِّہِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ،قَالَتْ: كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً،فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَسْتَفْتِيہِ وَأُخْبِرُہُ،فَوَجَدْتُہُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ،فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً شَدِيدَةً،فَمَا تَرَی فِيہَا،قَدْ مَنَعَتْنِي الصَّلَاةَ وَالصَّوْمَ؟ فَقَالَ: أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ, فَإِنَّہُ يُذْہِبُ الدَّمَ،قَالَتْ: ہُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَاتَّخِذِي ثَوْبًا،فَقَالَتْ: ہُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ،إِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًّا؟ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: سَآمُرُكِ بِأَمْرَيْنِ, أَيَّہُمَا فَعَلْتِ أَجْزَأَ عَنْكِ مِنَ الْآخَرِ،وَإِنْ قَوِيتِ عَلَيْہِمَا فَأَنْتِ أَعْلَمُ،فَقَالَ لَہَا: إِنَّمَا ہَذِہِ رَكْضَةٌ مِنْ رَكَضَاتِ الشَّيْطَانِ،فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ،أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ،فِي عِلْمِ اللہِ،ثُمَّ اغْتَسِلِي،حَتَّی إِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَہُرْتِ وَاسْتَنْقَأْتِ, فَصَلِّي ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً،أَوْ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَہَا وَصُومِي, فَإِنَّ ذَلِكَ يَجْزِيكِ،وَكَذَلِكَ فَافْعَلِي فِي كُلِّ شَہْرٍ،كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ وَكَمَا يَطْہُرْنَ, مِيقَاتُ حَيْضِہِنَّ وَطُہْرِہِنَّ،وَإِنْ قَوِيتِ عَلَی أَنْ تُؤَخِّرِي الظُّہْرَ،وَتُعَجِّلِيَ الْعَصْرَ،فَتَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ, الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ،وَتُؤَخِّرِينَ الْمَغْرِبَ،وَتُعَجِّلِينَ الْعِشَاءَ،ثُمَّ تَغْتَسِلِينَ،وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ: فَافْعَلِي،وَتَغْتَسِلِينَ مَعَ الْفَجْرِ فَافْعَلِي،وَصُومِي إِنْ قَدِرْتِ عَلَی ذَلِكَ. قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: وَہَذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ۔۔قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاہُ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ قَالَ: فَقَالَتْ حَمْنَةُ: فَقُلْتُ: ہَذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ, لَمْ يَجْعَلْہُ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ جَعَلَہُ كَلَامَ حَمْنَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَعَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ رَافِضِيٌّ رَجُلُ سُوءٍ وَلَكِنَّہُ كَانَ صَدُوقًا فِي الْحَدِيثِ وَثَابِتُ بْنُ الْمِقْدَامِ رَجُلٌ ثِقَةٌ وَذَكَرَہُ،عَنْ يَحْيَی بْنِ مَعِينٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ يَقُولُ: حَدِيثُ ابْنِ عَقِيلٍ فِي نَفْسِي مِنْہُ شَيْءٌ.
عمران بن طلحہ اپنی والدہ حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں۔حمنہ نے بتایا کہ مجھے بہت زیادہ اور بڑا سخت استحاضہ ہوتا تھا۔میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی کہ آپ سے مسئلہ پوچھوں اور آپ کو اپنی حالت بتاؤں تو میں نے آپ کو اپنی بہن زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے گھر میں پایا۔میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ایسی عورت ہوں جسے بہت سخت،شدید استحاضہ ہوتا ہے،آپ کا اس کے متعلق کیا ارشاد ہے؟ اس نے مجھے نماز اور روزے سے بھی روک رکھا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’میرا خیال ہے کہ تم روئی رکھ لیا کرو،اس سے خون رک جائے گا۔‘‘ اس (حمنہ) نے کہا: یہ اس سے زیادہ ہوتا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تو پھر کپڑا باندھ لیا کرو۔‘‘ میں نے کہا،یہ اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے،میری تو تللی (دھار) بہتی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’میں تمہیں دو باتیں بتاتا ہوں ان میں سے جو بھی اختیار کر لو کافی ہے۔اگر دونوں کی ہمت ہو تو یہ تمہیں معلوم ہو گا۔‘‘ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا ’’یہ دراصل شیطانی کچوکا ہے۔پس تم (ہر مہینے) اللہ کے علم کے مطابق چھ یا سات دن حیض کے شمار کرو،پھر غسل کر لو حتیٰ کہ جب تم اپنے آپ کو پاک صاف سمجھو تو تئیس یا چوبیس دن رات نماز پڑھتی رہو اور روزے رکھو۔تمہیں یہ کافی ہے اور ہر مہینے ویسے ہی کیا کرو جیسے کہ عام عورتیں اپنے حیض اور طہر کے دنوں میں کرتی ہیں۔(دوسری صورت) اور اگر ہمت ہو تو طہر کو مؤخر اور عصر کو جلدی کر کے ان دونوں کو جمع کر لو اور ان کے لیے ایک غسل کرو۔پھر مغرب کو مؤخر اور عشاء کو جلدی کرتے ہوئے ایک غسل کر لو اور ان نمازوں کو جمع کر کے پڑھ لو۔اور فجر کی نماز کے لیے (بھی) غسل کر لو۔اگر تم یہ کر سکتی ہو تو کر لیا کرو اور روزے بھی رکھتی جاؤ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اور یہ (دوسری) صورت ان دونوں میں سے میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا اس روایت کو عمرو بن ثابت نے ابن عقیل سے نقل کیا اور کہا: حمنہ نے کہا ’’یہ صورت میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔‘‘ اس قول کو اس نے رسول اللہ ﷺ کا فرمان نہیں بتایا،بلکہ حمنہ کا قول کہا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: عمرو بن ثابت رافضی تھا اور یہ قول یحییٰ بن معین سے ذکر کیا۔(لیکن وہ حدیث میں صدوق (سچا) تھا۔) امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے سنا،کہتے تھے کہ ابن عقیل کی حدیث کے بارے میں میرے دل میں کچھ (تردد) ہے۔