Sunan Abi Dawood Hadith 2871 (سنن أبي داود)

[2871] إسنادہ ضعیف

نسائی (3699)

عطاء بن السائب اختلط

انوار الصحیفہ ص 103

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا أَنْزَلَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي ہِيَ أَحْسَنُ وَ إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَی ظُلْمًا الْآيَةَ انْطَلَقَ مَنْ كَانَ عِنْدَہُ يَتِيمٌ فَعَزَلَ طَعَامَہُ مِنْ طَعَامِہِ وَشَرَابَہُ مِنْ شَرَابِہِ فَجَعَلَ يَفْضُلُ مِنْ طَعَامِہِ فَيُحْبَسُ لَہُ حَتَّی يَأْكُلَہُ أَوْ يَفْسُدَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْہِمْ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ فَأَنْزَلَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ الْيَتَامَی قُلْ إِصْلَاحٌ لَہُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوہُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فَخَلَطُوا طَعَامَہُمْ بِطَعَامِہِ وَشَرَابَہُمْ بِشَرَابِہِ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ جب اللہ عزوجل نے یہ آیات اتاریں ((ولا تقربوا مال الیتیم إلا بالتی ہی أحسن)) ’’یتیم کے مال کے قریب مت جاؤ مگر اچھے انداز سے۔‘‘ اور ((إن الذین یأکلون أموال الیتامی ظلما)) ’’جو لوگ ظلم سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں ‘ وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور عنقریب وہ دہکتی آگ میں جائیں گے۔‘‘ تو جن لوگوں کے ہاں کوئی یتیم تھا انہوں نے اس کے کھانے پینے کو اپنے سے جدا کر دیا۔اس طرح جو کھانا اس کا بچ رہتا وہ اس کے لیے رکھ چھوڑتے حتیٰ کہ وہ یتیم ہی اسے کھاتا یا خراب (اور ضائع) ہو جاتا۔اور یہ کیفیت ان کے لیے گراں ہوئی اور انہوں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا ‘ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی ((سألونک عن الیتامی قل إصلاح لہم خیر وإن تخالطوہم فإخوانکم)) ’’یہ لوگ آپ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔کہہ دیجئیے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے ‘ اگر تم ان کا مال اپنے مالوں میں ملا بھی لو تو یہ تمہارے بھائی ہیں۔‘‘ (اللہ تعالیٰ بدنیت اور نیک نیت ہر ایک کو خوب جانتا ہے) چنانچہ ان لوگوں نے ان کا کھانا پینا اپنے کھانے پینے کے ساتھ ملا لیا۔