Sunan Abi Dawood Hadith 2878 (سنن أبي داود)
[2878]صحیح
صحیح بخاری (2772) صحیح مسلم (1633)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ح،وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ح،وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنِ ابْنِ عَوْنٍ،عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ،قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ،فَأَتَی النَّبِيَّ ﷺ،فَقَالَ: أَصَبْتُ أَرْضًا،لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْہُ! فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي بِہِ؟ قَالَ: إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَہَا،وَتَصَدَّقْتَ بِہَا،فَتَصَدَّقَ بِہَا عُمَرُ: أَنَّہُ لَا يُبَاعُ أَصْلُہَا،وَلَا يُوہَبُ،وَلَا يُوَرَّثُ لِلْفُقَرَاءِ،وَالْقُرْبَی،وَالرِّقَابِ،وَفِي سَبِيلِ اللہِ،وَابْنِ السَّبِيلِ-: وَزَادَ عَنْ بِشْرٍ وَالضَّيْفِ،ثُمَّ اتَّفَقُوا لَا جُنَاحَ عَلَی مَنْ وَلِيَہَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْہَا بِالْمَعْرُوفِ،وَيُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيہِ. زَادَ عَنْ بِشْرٍ قَالَ: وَقَالَ مُحَمَّدٌ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ (ان کے والد) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں کچھ زمین ملی۔وہ نبی کریم ﷺ کے ہاں حاضر ہوئے اور کہا: مجھے زمین ملی ہے اور اس جیسا نفیس مال مجھے کبھی نہیں ملا ‘ تو اس کے بارے میں آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’اگر چاہو تو اس کے اصل کو اپنے پاس رکھو اور اس (کی آمدنی) کو صدقہ کر دو۔‘‘ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو صدقہ کر دیا اس شرط کے ساتھ کہ اس کے اصل کو بیچا نہیں جائے گا ‘ ہبہ نہیں کیا جائے گا اور نہ وراثت ہی میں وہ تقسیم ہو گی اور اس کی آمدنی فقراء ‘ قرابت داروں ‘ گردنوں کے چھڑانے ‘ جہاد اور مسافروں کے لیے خرچ ہو گی۔(جناب مسدد کے استاد) بشر نے ’’مہمانوں کے لیے‘‘ بھی بیان کیا۔اور اس کے متولی پر کوئی گناہ نہیں کہ اس (آمدنی) میں سے دستور کے مطابق خود کھائے اور دوست کو کھلائے ‘ لیکن مال جمع کرنے والا نہ ہو۔(جناب مسدد کے استاد) بشر نے کہا: محمد (بن عون) کے الفاظ ہیں ((غیر متأثل مالا)) (یعنی ’’مال جمع کرنے والا نہ ہو۔‘‘)