Sunan Abi Dawood Hadith 2877 (سنن أبي داود)
[2877]صحیح
صحیح مسلم (1149)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بَنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيہِ بُرَيْدَةَ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَقَالَتْ كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَی أُمِّي بِوَلِيدَةٍ وَإِنَّہَا مَاتَتْ وَتَرَكَتْ تِلْكَ الْوَلِيدَةَ قَالَ قَدْ وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ قَالَتْ وَإِنَّہَا مَاتَتْ وَعَلَيْہَا صَوْمُ شَہْرٍ أَفَيُجْزِئُ أَوْ يَقْضِي عَنْہَا أَنْ أَصُومَ عَنْہَا قَالَ نَعَمْ قَالَتْ وَإِنَّہَا لَمْ تَحُجَّ أَفَيُجْزِئُ أَوْ يَقْضِي عَنْہَا أَنْ أَحُجَّ عَنْہَا قَالَ نَعَمْ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور کہا: میں نے ایک لونڈی اپنی والدہ کو صدقہ دی تھی ‘ والدہ فوت ہو گئی ہے اور وہ لونڈی ورثے میں چھوڑ گئی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تیرا ثواب ثابت ہوا اور وہ لونڈی وراثت میں تجھے واپس آ گئی۔‘‘ اس نے کہا: والدہ فوت ہوئی ہے تو اس پر ایک مہینے کے روزے ہیں ‘ اگر میں اس کی طرف سے روزے رکھوں تو کیا اس کی طرف سے کفایت یا قضاء ہو جائے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ہاں‘‘ عورت نے کہا: والدہ نے حج نہیں کیا تھا ‘ اگر میں اس کی طرف سے حج کروں تو کیا اس کی طرف سے کفایت یا قضاء ہو جائے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ہاں!‘‘۔