Sunan Abi Dawood Hadith 2886 (سنن أبي داود)
[2886]صحیح
صحیح بخاری (6723) صحیح مسلم (1616)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ مَرِضْتُ فَأَتَانِي النَّبِيُّ ﷺ يَعُودُنِي ہُوَ وَأَبُو بَكْرٍ مَاشِيَيْنِ وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ فَلَمْ أُكَلِّمْہُ فَتَوَضَّأَ وَصَبَّہُ عَلَيَّ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي وَلِي أَخَوَاتٌ قَالَ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمَوَارِيثِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلْ اللہُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بیمار ہو گیا تو نبی کریم ﷺ پیدل چلتے ہوئے میری عیادت کے لیے تشریف لائے جب کہ مجھ پر بے ہوشی طاری تھی۔میں آپ ﷺ سے بات نہ کر سکا،تو آپ ﷺ نے وضو کیا اور وہ پانی مجھ پر ڈالا تو مجھے افاقہ ہو گیا۔پس میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے مال میں کیسے کروں جبکہ میری وارث میری بہنیں ہیں؟ تو (یہ) آیت میراث نازل ہوئی: ((یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکلالۃ)) ’’یہ لوگ آپ سے فتوی پوچھتے ہیں کہہ دیجیئے: اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے۔‘‘