Sunan Abi Dawood Hadith 2889 (سنن أبي داود)
[2889]حسن
وللحدیث شواھد عند مسلم (1617) وانظر الحدیث السابق (2888)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ يَسْتَفْتُونَكَ فِي الْكَلَالَةِ فَمَا الْكَلَالَةُ قَالَ تُجْزِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ فَقُلْتُ لِأَبِي إِسْحَقَ ہُوَ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلَا وَالِدًا قَالَ كَذَلِكَ ظَنُّوا أَنَّہُ كَذَلِكَ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اﷲ کے رسول! لوگ آپ سے ’’کلالہ‘‘ کے بارے میں فتوی چاہتے ہیں ‘ تو اس ’’کلالہ‘‘ سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے (اس کی توضیح میں) فرمایا ’’تجھے وہ آیت کافی ہے جو گرمی کے موسم میں نازل ہوئی ہے۔‘‘ (راوی ابوبکر کہتے ہیں) میں نے ابواسحٰق سے کہا: (کیا کلالہ وہ نہیں کہ) جو فوت ہو جائے اور نہ اولاد چھوڑ جائے اور نہ والد؟ انہوں نے کہا: علماء ایسے ہی کہتے ہیں۔