Sunan Abi Dawood Hadith 2890 (سنن أبي داود)

[2890]صحیح

صحیح بخاری (6736)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ عَنْ ہُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ الْأَوْدِيِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَی أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَسَأَلَہُمَا عَنْ ابْنَةٍ وَابْنَةِ ابْنٍ وَأُخْتٍ لِأَبٍّ وَأُمٍّ فَقَالَا لِابْنَتِہِ النِّصْفُ وَلِلْأُخْتِ مِنْ الْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ وَلَمْ يُوَرِّثَا ابْنَةَ الِابْنِ شَيْئًا وَأْتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَإِنَّہُ سَيُتَابِعُنَا فَأَتَاہُ الرَّجُلُ فَسَأَلَہُ وَأَخْبَرَہُ بِقَوْلِہِمَا فَقَالَ لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُہْتَدِينَ وَلَكِنِّي سَأَقْضِي فِيہَا بِقَضَاءِ النَّبِيِّ ﷺ لِابْنَتِہِ النِّصْفُ وَلِابْنَةِ الِابْنِ سَہْمٌ تَكْمِلَةُ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ مِنْ الْأَبِ وَالْأُمِّ

ہزیل بن شرجیل اودی سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا ابوموسیٰ اشعری اور سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا کہ ایک شخص فوت ہوا ‘ ایک بیٹی ‘ ایک پوتی اور ایک حقیقی بہن چھوڑ گیا۔(اس کی میراث کیونکر تقسیم ہو؟) ان دونوں نے کہا: بیٹی کے لیے آدھا ہے اور حقیقی بہن کے لیے بھی آدھا۔پوتی کو انہوں نے محروم ٹھہرایا۔اور (کہا کہ) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس چلے جاؤ (اور ان سے بھی پوچھ لو) وہ ہماری تصدیق و تائید کریں گے۔چنانچہ وہ آدمی ان کے پاس گیا اور مذکورہ مسئلہ پوچھا اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری اور سیدنا سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہما کا جواب بھی بتایا۔تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: (اگر میں بھی یہی جواب دوں) تب تو میں گمراہ ہو گیا اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہ ہوا،میں وہ فیصلہ دیتا ہوں جو رسول اللہ ﷺ نے دیا تھا کہ اس کی بیٹی کے لیے آدھا اور پوتی کے لیے ایک حصہ (چھٹا حصہ) ہے دو تہائی کی تکمیل کے لیے اور باقی ماندہ (ایک تہائی) وہ حقیقی بہن کے لیے ہے۔