Sunan Abi Dawood Hadith 2894 (سنن أبي داود)
[2894]صحیح
الزھري صرح بالسماع عند النسائي فی الکبریٰ (4/73 ح 6339 وسندہ صحیح) وخالفہ النسائي فأخطأ واللہ أعلم، قبیصۃ صحابي صغیر رضي اللہ عنہ و ھذا من مراسیل الصحابۃ و مراسیل الصحابۃ مقبولۃ مشکوۃ المصابیح (3061، 4084)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَقَ بْنِ خَرَشَةَ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ أَنَّہُ قَالَ جَاءَتْ الْجَدَّةُ إِلَی أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُہُ مِيرَاثَہَا فَقَالَ مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللہِ تَعَالَی شَيْءٌ وَمَا عَلِمْتُ لَكِ فِي سُنَّةِ نَبِيِّ اللہِ ﷺ شَيْئًا فَارْجِعِي حَتَّی أَسْأَلَ النَّاسَ فَسَأَلَ النَّاسَ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ حَضَرْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَعْطَاہَا السُّدُسَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ہَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَأَنْفَذَہُ لَہَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ جَاءَتْ الْجَدَّةُ الْأُخْرَی إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ تَسْأَلُہُ مِيرَاثَہَا فَقَالَ مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللہِ تَعَالَی شَيْءٌ وَمَا كَانَ الْقَضَاءُ الَّذِي قُضِيَ بِہِ إِلَّا لِغَيْرِكِ وَمَا أَنَا بِزَائِدٍ فِي الْفَرَائِضِ وَلَكِنْ ہُوَ ذَلِكَ السُّدُسُ فَإِنْ اجْتَمَعْتُمَا فِيہِ فَہُوَ بَيْنَكُمَا وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِہِ فَہُوَ لَہَا
سیدنا قبیصہ بن ذؤیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک (میت کی) ’’نانی‘‘ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئی ‘ وہ اپنا حق وراثت طلب کر ہی تھی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اﷲ کی کتاب میں تیرا کوئی حصہ (مذکور) نہیں ہے اور نہ مجھے نبی کریم ﷺ کی سنت سے کچھ معلوم ہے ‘ تم لوٹ جاؤ حتیٰ کہ میں لوگوں سے پوچھ لوں۔چنانچہ انہوں نے لوگوں (صحابہ) سے پوچھا تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے ہاں حاضر تھا تو آپ ﷺ نے اسے (نانی کو) چھٹا حصہ دیا تھا۔ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا اس خبر کے سلسلے میں تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور انہوں نے اسی طرح کہا: جیسے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا۔چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نانی کو یہ حصہ دیا۔پھر ایک اور ’’دادی‘‘ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی ‘ وہ اپنا حق وراثت طلب کر رہی تھی۔انہوں نے کہا: اﷲ کی کتاب میں تمہارا کوئی حق (مذکورہ) نہیں۔اور جو فیصلہ اس سے پہلے ہوا ہے وہ دوسری (نانی) کے لیے تھا اور میں حقوق وراثت میں کچھ نہیں بڑھا سکتا۔لیکن وہ چھٹا حصہ ہی ہے۔اگر تم دونوں (نانی اور دادی) جمع ہو جاؤ تو یہ حصہ تم دونوں کے مابین ہو گا۔اور جو تم میں سے کوئی اکیلی ہو (دادی ہو ‘ نانی نہ ہو ‘ یا نانی ہو ‘ دادی نہ ہو) تو یہ چھٹا حصہ پورے کا پورا لے گی۔