Sunan Abi Dawood Hadith 2915 (سنن أبي داود)

[2915]صحیح

صحیح بخاری (2169) صحیح مسلم (1504)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی مَالِكٍ وَأَنَا حَاضِرٌ قَالَ مَالِكٌ عَرَضَ عَلَيَّ نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تَعْتِقُہَا فَقَالَ أَہْلُہَا نَبِيعُكِہَا عَلَی أَنَّ وَلَاءَہَا لَنَا فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ ذَاكَ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالَ لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے رویت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارادہ کیا کہ ایک لونڈی خرید کر آزاد کر دیں ‘ تو لونڈی کے مالکوں نے کہا: ہم یہ آپ کو فروخت کر دیتے ہیں ‘ لیکن اس کا ولاء ہمارے لیے رہے گا ‘ (اس کی وفات پر اس کا مال ہم لیں گے یا نسبت ولاء ہم سے متعلق رہے گے۔) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’(ان کی یہ بات) تیرے لیے کوئی مانع نہیں ہے ‘ کیونکہ ولاء اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے۔‘‘