Sunan Abi Dawood Hadith 2917 (سنن أبي داود)
[2917]إسنادہ حسن
أخرجہ ابن ماجہ (2732 وسندہ حسن)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رِئَابَ بْنَ حُذَيْفَةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَوَلَدَتْ لَہُ ثَلَاثَةَ غِلْمَةٍ فَمَاتَتْ أُمُّہُمْ فَوَرَّثُوہَا رِبَاعَہَا وَوَلَاءَ مَوَالِيہَا وَكَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَصَبَةَ بَنِيہَا فَأَخْرَجَہُمْ إِلَی الشَّامِ فَمَاتُوا فَقَدَّمَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَمَاتَ مَوْلًی لَہَا وَتَرَكَ مَالًا لَہُ فَخَاصَمَہُ إِخْوَتُہَا إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَا أَحْرَزَ الْوَلَدُ أَوْ الْوَالِدُ فَہُوَ لِعَصَبَتِہِ مَنْ كَانَ قَالَ فَكَتَبَ لَہُ كِتَابًا فِيہِ شَہَادَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَرَجُلٍ آخَرَ فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عَبْدُ الْمَلِكِ اخْتَصَمُوا إِلَی ہِشَامِ بْنِ إِسْمَعِيلَ أَوْ إِلَی إِسْمَعِيلَ بْنِ ہِشَامٍ فَرَفَعَہُمْ إِلَی عَبْدِ الْمَلِكِ فَقَالَ ہَذَا مِنْ الْقَضَاءِ الَّذِي مَا كُنْتُ أَرَاہُ قَالَ فَقَضَی لَنَا بِكِتَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَنَحْنُ فِيہِ إِلَی السَّاعَةِ
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رماب بن حذیفہ نے ایک عورت سے شادی کی ‘ تو اس سے ان کے تین لڑکے پیدا ہوئے ‘ پھر ان کی ماں فوت ہو گئی تو وہ بچے اپنی ماں کے گھروں اور غلاموں کے ولاء کے وارث ہوئے۔سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ان بچوں کے عصبہ تھے۔(یعنی وارث تھے) وہ انہیں شام لے گئے جو وہاں جا کر فوت ہو گئے۔(یہ بچے طاعون عمواس میں فوت ہوئے تھے)۔سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ واپس آئے جبکہ اس عورت کا ایک غلام بھی وفات پا گیا اور مال چھوڑ گیا تھا۔تو عورت کے بھائیوں نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے (اپنی بہن کے ولاء کے سلسلے میں) جھگڑا کیا اور معاملہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا۔تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ’’بیٹے نے یا باپ نے جو بھی جمع کیا ہو وہ اس کے ((عصبۃ)) کا ہوتا ہے جو بھی ہوں۔‘‘ چنانچہ انہوں نے (اس فیصلے کی) ایک تحریر لکھی جس میں سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ‘ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور ایک آدمی کی گواہی ثبت کی۔پھر جب عبدالملک خلیفہ ہوئے تو عورت کے بھائیوں نے یہ مقدمہ ہشام بن اسمعیل یا اسمعیل بن ہشام کے سامنے پیش کیا۔اس نے ان کو عبدالملک کے ہاں بھیج دیا۔تو عبدالملک نے کہا: یہ وہی فیصلہ ہے جو میرا خیال ہے میں پہلے دیکھ چکا ہوں۔چنانچہ اس نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی تحریر کے مطابق ہمارے حق میں فیصلہ کر دیا اور اب تک ہم اسی میں ہیں۔