Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 293 (سنن أبي داود)

[293] إسنادہ ضعیف

یحیی بن أبي کثیر مدلس (طبقات المدلسین: 63/ 2 وھو من الثالثۃ) وعنعن

وحدیث أم بکر ضعیف لجھالۃ حالھا

ورواہ ابن ماجہ (646)

انوار الصحیفہ ص 25

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنِ الْحُسَيْنِ،عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي كَثِيرٍ،عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ،أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُہَرَاقُ الدَّمَ،وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ-:أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَمَرَہَا أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي وأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّ بَكْرٍ أَخْبَرَتْہُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ-فِي الْمَرْأَةِ تَرَی مَا يُرِيبُہَا بَعْدَ الطُّہْرِ-: إِنَّمَا ہِيَ عِرْقٌ-أَوْ قَالَ: عُرُوقٌ-. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عَقِيلٍ الْأَمْرَانِ جَمِيعًا وَقَالَ إِنْ قَوِيتِ فَاغْتَسِلِي لِكُلِّ صَلَاةٍ, وَإِلَّا فَاجْمَعِي. كَمَا قَالَ الْقَاسِمُ فِي حَدِيثِہِ وَقَدْ رُوِيَ ہَذَا الْقَوْلُ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ،عَنْ عَلِيٍّ،وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُمَا.

جناب ابوسلمہ کہتے ہیں کہ مجھ سے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک عورت کو بہت زیادہ خون آتا تھا اور وہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھی۔رسول اللہ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ ’’ہر نماز کے وقت غسل کرے اور نماز پڑھا کرے۔‘‘ (یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا کہ مجھے ابوسلمہ نے بتایا کہ) ام بکر نے مجھے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کے بارے میں فرمایا جسے طہر شروع ہونے کے بعد کوئی شک والی کیفیت درپیش ہو۔’’بیشک یہ رگ (کا خون) ہے۔‘‘ (الفاظ میں شک ہے) ((إنما ہی-أو قال إنما ہو-عرق أو قال عروق))۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہ ابن عقیل کی روایت میں دونوں باتیں جمع ہیں: آپ نے فرمایا ’’اگر طاقت رکھتی ہو تو ہر نماز کے لیے غسل کر لیا کرو ورنہ جمع کر لو۔‘‘ جیسے کہ قاسم نے اپنی روایت میں بیان کیا۔اور یہی قول سعید بن جبیر نے سیدنا علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے نقل کیا ہے۔