Sunan Abi Dawood Hadith 2930 (سنن أبي داود)

[2930] إسنادہ ضعیف

إسماعیل بن أبي خالد عنعن وھو مدلس (طبقات المدلسین: 2/36وھو من الثالثۃ) وأما أخوہ سعید: فثقۃ وثقہ العجلي وابن حبان وغیرہما

انوار الصحیفہ ص 106

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ بَقِيَّةَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَخِيہِ عَنْ بِشْرِ بْنِ قُرَّةَ الْكَلْبِيِّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ رَجُلَيْنِ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَتَشَہَّدَ أَحَدُہُمَا ثُمَّ قَالَ جِئْنَا لِتَسْتَعِينَ بِنَا عَلَی عَمَلِكَ وَقَالَ الْآخَرُ مِثْلَ قَوْلِ صَاحِبِہِ فَقَالَ إِنَّ أَخْوَنَكُمْ عِنْدَنَا مَنْ طَلَبَہُ فَاعْتَذَرَ أَبُو مُوسَی إِلَی النَّبِيِّ ﷺ وَقَالَ لَمْ أَعْلَمْ لِمَا جَاءَا لَہُ فَلَمْ يَسْتَعِنْ بِہِمَا عَلَی شَيْءٍ حَتَّی مَاتَ

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں دو آدمیوں کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔پس ان میں سے ایک نے (بات کرنے کے لیے) کلمات تشہد پڑھے اور پھر کہا: ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں کہ آپ ہم سے اپنے کام میں کوئی مدد لیں (یعنی عامل اور حاکم بنا دیں) اور دوسرے نے بھی اپنے ساتھی کی سی بات کی۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’جو شخص یہ ذمہ داری طلب کرتا ہے وہ ہمارے نزدیک سب سے زیادہ خائن ہوتا ہے۔‘‘ چنانچہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے معذرت چاہی اور کہا: مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ کس مقصد سے آئے ہیں۔اور پھر آپ نے اپنی وفات تک ان سے کسی کام میں مدد نہیں لی