Sunan Abi Dawood Hadith 2932 (سنن أبي داود)

[2932]صحیح

ولہ شاھد قوي عند البزار (کشف الأستار 2/234) مشکوۃ المصابیح (3707)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عَامِرٍ الْمُرِّيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا زُہَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا أَرَادَ اللہُ بِالْأَمِيرِ خَيْرًا جَعَلَ لَہُ وَزِيرَ صِدْقٍ إِنْ نَسِيَ ذَكَّرَہُ وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَہُ وَإِذَا أَرَادَ اللہُ بِہِ غَيْرَ ذَلِكَ جَعَلَ لَہُ وَزِيرَ سُوءٍ إِنْ نَسِيَ لَمْ يُذَكِّرْہُ وَإِنْ ذَكَرَ لَمْ يُعِنْہُ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ جب کسی امیر (حاکم) کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے کوئی مخلص وزیر عنایت فرما دیتا ہے جو بھول جانے پر اسے یاد دلاتا ہے اور یاد ہونے پر اس کی مدد کرتا ہے،اور اللہ جب اس کے ساتھ کوئی اور ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے کوئی برا وزیر بنا دیتا ہے جو بھول جانے پر اسے یاد نہیں دلاتا اور یاد آنے پر اس کی مدد نہیں کرتا۔‘‘