Sunan Abi Dawood Hadith 2960 (سنن أبي داود)

[2960]إسنادہ حسن

ابن شھاب الزھري صرح بالسماع عند ابن الجارود (1095)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ جَيْشًا مِنْ الْأَنْصَارِ كَانُوا بِأَرْضِ فَارِسَ مَعَ أَمِيرِہِمْ وَكَانَ عُمَرُ يُعْقِبُ الْجُيُوشَ فِي كُلِّ عَامٍ فَشُغِلَ عَنْہُمْ عُمَرُ فَلَمَّا مَرَّ الْأَجَلُ قَفَلَ أَہْلُ ذَلِكَ الثَّغْرِ فَاشْتَدَّ عَلَيْہِمْ وَتَوَاعَدَہُمْ وَہُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقَالُوا يَا عُمَرُ إِنَّكَ غَفَلْتَ عَنَّا وَتَرَكْتَ فِينَا الَّذِي أَمَرَ بِہِ رَسُولُ اللہِ ﷺ مِنْ إِعْقَابِ بَعْضِ الْغَزِيَّةِ بَعْضًا

جناب عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری سے روایت ہے کہ کی سرحدوں والے واپس چلے آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹا اور دھمکی بھی دی ‘ حالانکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب تھے۔انہوں نے کہا: عمر! تم ہم سے غافل رہے ہو اور ہمارے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے جو حکم فرمایا تھا وہ تم نے چھوڑ دیا ہے کہ مجاہدین ایک دوسرے کے بعد باری باری سے بھیجے جائیں گے۔