Sunan Abi Dawood Hadith 2961 (سنن أبي داود)

[2961] إسنادہ ضعیف

ابن عدي بن عدي الکندي لم یسم ولا یعرف حالہ (تقریب: 8480)

وحدیث ابن حبان (الموارد: 2184) یغني عنہ وسندہ صحیح

انوار الصحیفہ ص 107

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ افْتَتَحَ رَسُولُ اللہِ ﷺ خَيْبَرَ وَاشْتَرَطَ أَنَّ لَہُ الْأَرْضَ وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ قَالَ أَہْلُ خَيْبَرَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِالْأَرْضِ مِنْكُمْ فَأَعْطِنَاہَا عَلَی أَنَّ لَكُمْ نِصْفَ الثَّمَرَةِ وَلَنَا نِصْفٌ فَزَعَمَ أَنَّہُ أَعْطَاہُمْ عَلَی ذَلِكَ فَلَمَّا كَانَ حِينَ يُصْرَمُ النَّخْلُ بَعَثَ إِلَيْہِمْ عَبْدَ اللہِ بْنَ رَوَاحَةَ فَحَزَرَ عَلَيْہِمْ النَّخْلَ وَہُوَ الَّذِي يُسَمِّيہِ أَہْلُ الْمَدِينَةِ الْخَرْصَ فَقَالَ فِي ذِہْ كَذَا وَكَذَا قَالُوا أَكْثَرْتَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ رَوَاحَةَ فَقَالَ فَأَنَا أَلِي حَزْرَ النَّخْلِ وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ قَالُوا ہَذَا الْحَقُّ وَبِہِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ قَدْ رَضِينَا أَنْ نَأْخُذَہُ بِالَّذِي قُلْتَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَہْلٍ الرَّمْلِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ بِإِسْنَادِہِ وَمَعْنَاہُ قَالَ فَحَزَرَ وَقَالَ عِنْدَ قَوْلِہِ وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ يَعْنِي الذَّہَبَ وَالْفِضَّةَ لَہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ حَدَّثَنَا كَثِيرٌ يَعْنِي ابْنَ ہِشَامٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ عَنْ مِقْسَمٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ زَيْدٍ قَالَ فَحَزَرَ النَّخْلَ وَقَالَ فَأَنَا أَلِي جُذَاذَ النَّخْلِ وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ

سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے لکھا: جو شخص یہ پوچھے کہ مال فے کہاں کہاں خرچ ہوتا ہے ‘ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کا مصرف وہی ہے جس کا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کیا تھا اور اہل ایمان نے بھی اسے نبی کریم ﷺ کے فرمان کی روشنی میں عدل پر مبنی پایا تھا۔آپ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا تھا ’’اللہ تعالیٰ نے حق کو عمر کی زبان اور دل پر رکھ دیا ہے۔‘‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مال فے کے عطایا کو مسلمانوں کے لیے خاص کیا ہوا تھا اور دیگر مذاہب والوں کے لیے امن و امان کا عہد دیا تھا بعوض اس جزیہ کے جو ان سے لیا جاتا تھا اور ان کا خمس یا غنیمت میں کوئی حصہ نہ تھا