Sunan Abi Dawood Hadith 2970 (سنن أبي داود)
[2970]صحیح
صحیح بخاری (3092) صحیح مسلم (1759)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ،حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ بْنِ سَعْدٍ،حَدَّثَنَا أَبِي،عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ،أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِي اللہُ عَنْہَا... أَخْبَرَتْہُ بِہَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ فِيہِ: فَأَبَی أَبُو بَكْرٍ-رَضِي اللہُ عَنْہُ-عَلَيْہَا ذَلِكَ،وَقَالَ: لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَعْمَلُ بِہِ،إِلَّا عَمِلْتُ بِہِ إِنِّي أَخْشَی إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِہِ أَنْ أَزِيغَ, فَأَمَّا صَدَقَتُہُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَہَا عُمَرُ إِلَی عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ رَضِي اللہُ عَنْہُمَا،فَغَلَبَہُ عَلِيٌّ عَلَيْہَا, وَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَكُ فَأَمْسَكَہُمَا عُمَرُ،وَقَالَ: ہُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللہِ ﷺ،كَانَتَا لِحُقُوقِہِ الَّتِي تَعْرُوہُ وَنَوَائِبِہِ،وَأَمْرُہُمَا إِلَی مَنْ وَلِيَ الْأَمْرَ،قَالَ: فَہُمَا عَلَی ذَلِكَ إِلَی الْيَوْمِ.
جناب عروہ نے مجھے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ حدیث بیان کی۔عروہ نے اس روایت میں بیان کیا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ دینے سے) انکار کر دیا اور کہا: جیسے رسول اللہ ﷺ کرتے رہے ہیں ‘ میں اس میں سے کچھ ترک نہیں کروں گا ‘ اگر میں نے آپ ﷺ کے طریقے میں سے کچھ بھی ترک کر دیا ‘ تو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں گمراہ نہ ہو جاؤں۔البتہ آپ کا وہ صدقہ جو مدینے میں تھا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے سیدنا علی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہم کی تولیت میں دے دیا ‘ بعد ازاں اس معاملے میں علی رضی اللہ عنہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ پر غالب آ گئے تھے۔خیبر اور فدک کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی نگرانی میں رکھا اور کہا: یہ دونوں آپ کا وہ صدقہ ہیں جو آپ کے اتفاقی حقوق و اخراجات کے لیے تھے ‘ ان کی تولیت خلیفہ وقت کے ہاتھ میں ہو گی۔چنانچہ وہ آج تک اسی طرح ہیں۔