Sunan Abi Dawood Hadith 2969 (سنن أبي داود)

[2969]صحیح

صحیح بخاری (3711، 3712)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ،حَدَّثَنَا أَبِي،حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنِ الزُّہْرِيِّ،حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ﷺ... أَخْبَرَتْہُ بِہَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ: وَفَاطِمَةُ-عَلَيْہَا السَّلَام-حِينَئِذٍ تَطْلُبُ صَدَقَةَ رَسُولِ اللہِ ﷺ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكَ،وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ،قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِي اللہُ عَنْہَا: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللہُ عَنْہُ: إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالَ: لَا نُورَثُ, مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ،وَإِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِي ہَذَا الْمَالِ-يَعْنِي: مَالَ اللہِ-لَيْسَ لَہُمْ أَنْ يَزِيدُوا عَلَی الْمَأْكَلِ

عروہ بن زبیر نے خبر دی کہزوجہ نبی کریم ﷺ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ حدیث بیان کی۔اس روایت میں عروہ کہتے ہیں کہ ان دنوں (رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے اس صدقے کا مطالبہ کیا ‘ جو آپ ﷺ مدینہ ‘ فدک اور خیبر کے خمس کا بقیہ چھوڑ گئے تھے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان تھا ’’ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ‘ ہم جو کچھ بھی چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے اور آل محمد ﷺ اسی مال میں سے کھائیں گے۔’’یعنی اللہ کے مال میں سے اور انہیں حق نہیں کہ کھانے پینے کے اخراجات سے زیادہ لیں۔