Sunan Abi Dawood Hadith 2972 (سنن أبي داود)

[2972] إسنادہ ضعیف

السند منقطع ومغیرۃ بن مقسم مدلس وعنعن

انوار الصحیفہ ص 107، 108

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْجَرَّاحِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْمُغِيرَةِ قَالَ جَمَعَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بَنِي مَرْوَانَ حِينَ اسْتُخْلِفَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَتْ لَہُ فَدَكُ فَكَانَ يُنْفِقُ مِنْہَا وَيَعُودُ مِنْہَا عَلَی صَغِيرِ بَنِي ہَاشِمٍ وَيُزَوِّجُ مِنْہَا أَيِّمَہُمْ وَإِنَّ فَاطِمَةَ سَأَلَتْہُ أَنْ يَجْعَلَہَا لَہَا فَأَبَی فَكَانَتْ كَذَلِكَ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللہِ ﷺ حَتَّی مَضَی لِسَبِيلِہِ فَلَمَّا أَنْ وُلِّيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ عَمِلَ فِيہَا بِمَا عَمِلَ النَّبِيُّ ﷺ فِي حَيَاتِہِ حَتَّی مَضَی لِسَبِيلِہِ فَلَمَّا أَنْ وُلِّيَ عُمَرُ عَمِلَ فِيہَا بِمِثْلِ مَا عَمِلَا حَتَّی مَضَی لِسَبِيلِہِ ثُمَّ أَقْطَعَہَا مَرْوَانُ ثُمَّ صَارَتْ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَرَأَيْتُ أَمْرًا مَنَعَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَاطِمَةَ عَلَيْہَا السَّلَام لَيْسَ لِي بِحَقٍّ وَأَنَا أُشْہِدُكُمْ أَنِّي قَدْ رَدَدْتُہَا عَلَی مَا كَانَتْ يَعْنِي عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَ أَبُو دَاوُد وَلِيَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْخِلَافَةَ وَغَلَّتُہُ أَرْبَعُونَ أَلْفَ دِينَارٍ وَتُوُفِّيَ وَغَلَّتُہُ أَرْبَعُ مِائَةِ دِينَارٍ وَلَوْ بَقِيَ لَكَانَ أَقَلَّ

جناب مغیرہ (مغیرہ بن حکیم صنعانی) سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ جب خلیفہ بنے تو انہوں نے بنو مروان کو جمع کیا اور کہا: اراضی فدک رسول اللہ ﷺ کے لیے خاص تھیں ‘ آپ اسی کی آمدنی سے اپنے اخراجات پورے کیا کرتے تھے ‘ بنو ہاشم کے چھوٹے بچوں پر اسی کے ذریعے سے احسان فرماتے اور بیواؤں کی شادی کراتے تھے۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس کا مطالبہ کیا کہ یہ اسے دے دیا جائے ‘ تو آپ نے انکار کر دیا۔رسول اللہ ﷺ کے حین حیات یہ معاملہ ایسے ہی رہا حتیٰ کہ ان کی وفات ہو گئی۔پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو اس میں وہ وہی کچھ کرتے رہے جیسے نبی کریم ﷺ کی زندگی میں ہوتا تھا حتیٰ کہ اپنی راہ چلے گئے (وفات پا گئے)۔پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو اس میں وہی کیا جو وہ دونوں کرتے رہے تھے حتیٰ کہ وہ (بھی) اپنی راہ چلے گئے (ان کی بھی وفات ہو گئی)۔پھر یہ زمین مروان نے اپنے لیے خاص کر لی ‘ پھر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے قبضے میں آ گئی۔عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: میں نے سوچا ہے کہ جو چیز نبی کریم ﷺ نے (اپنی صاحبزادی) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دی ہے ‘ تو مجھے بھی اس پر کوئی حق حاصل نہیں ہے اور میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے یہ اراضی اسی حال پر واپس کر دی ہیں جیسے کہ تھیں۔یعنی رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ خلیفہ بنے تو ان کی آمدنی چالیس ہزار دینار تھی اور جب وہ فوت ہوئے تو چار سو دینار رہ گئی تھی اگر وہ حیات رہتے تو اور بھی کم ہو جاتی۔