Sunan Abi Dawood Hadith 2983 (سنن أبي داود)
[2983] إسنادہ ضعیف
قلت: السند ظاہرہ الحسن و صححہ الحاکم والذہبي (2/ 128) ولکن فیہ علۃ قادحۃ،قال الدارقطني: ’’و مطرف لم یسمع من ابن أبي لیلی‘‘ (العلل الواردۃ 3/ 280 مسئلۃ 405) فالسند منقطع
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًا يَقُولُ وَلَّانِي رَسُولُ اللہِ ﷺ خُمُسَ الْخُمُسِ فَوَضَعْتُہُ مَوَاضِعَہُ حَيَاةَ رَسُولِ اللہِ ﷺ وَحَيَاةَ أَبِي بَكْرٍ وَحَيَاةَ عُمَرَ فَأُتِيَ بِمَالٍ فَدَعَانِي فَقَالَ خُذْہُ فَقُلْتُ لَا أُرِيدُہُ قَالَ خُذْہُ فَأَنْتُمْ أَحَقُّ بِہِ قُلْتُ قَدْ اسْتَغْنَيْنَا عَنْہُ فَجَعَلَہُ فِي بَيْتِ الْمَالِ
میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ میں ‘ عباس ‘ فاطمہ اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم نبی کریم ﷺ کے ہاں اکٹھے ہوئے۔میں نے کہا: اے اﷲ کے رسول! اگر آپ مناسب سمجھیں تو کتاب اﷲ کے مطابق جو خمس میں ہمارا حق ہے ‘ آپ اپنی زندگی میں مجھے اس کا والی بنا دیں تاکہ آپ کے بعد کوئی مجھ سے جھگڑا نہ کرے۔چنانچہ آپ نے ایسے ہی کر دیا۔پھر میں آپ کی حیات مبارکہ میں اسے تقسیم کرتا رہا۔پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس کا والی بنایا۔حتی کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا آخری سال تھا تو ان کے پاس بہت سا مال آیا ‘ تو انہوں نے مجھے اس سے معزول کر دیا۔پھر انہوں نے مجھے بلا بھیجا ‘ تو میں نے عرض کیا: اب کے برس ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے جبکہ دیگر مسلمان اس کے حاجت مند ہیں ‘ آپ یہ انہیں دے دیں۔تو انہوں نے اسے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بعد مجھے کسی نے اس کے لیے نہیں بلایا۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں سے آنے کے بعد میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہوں نے کہا: اے علی! آج تم نے ہمیں ایک حق سے محروم کر دیا ہے جو آئندہ کبھی ہمیں نہیں دیا جائے گا۔اور وہ بڑے دانا آدمی تھے۔میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ میں ‘ عباس ‘ فاطمہ اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم نبی کریم ﷺ کے ہاں اکٹھے ہوئے۔میں نے کہا: اے اﷲ کے رسول! اگر آپ مناسب سمجھیں تو کتاب اﷲ کے مطابق جو خمس میں ہمارا حق ہے ‘ آپ اپنی زندگی میں مجھے اس کا والی بنا دیں تاکہ آپ کے بعد کوئی مجھ سے جھگڑا نہ کرے۔چنانچہ آپ نے ایسے ہی کر دیا۔پھر میں آپ کی حیات مبارکہ میں اسے تقسیم کرتا رہا۔پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس کا والی بنایا۔حتی کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا آخری سال تھا تو ان کے پاس بہت سا مال آیا ‘ تو انہوں نے مجھے اس سے معزول کر دیا۔پھر انہوں نے مجھے بلا بھیجا ‘ تو میں نے عرض کیا: اب کے برس ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے جبکہ دیگر مسلمان اس کے حاجت مند ہیں ‘ آپ یہ انہیں دے دیں۔تو انہوں نے اسے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بعد مجھے کسی نے اس کے لیے نہیں بلایا۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں سے آنے کے بعد میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہوں نے کہا: اے علی! آج تم نے ہمیں ایک حق سے محروم کر دیا ہے جو آئندہ کبھی ہمیں نہیں دیا جائے گا۔اور وہ بڑے دانا آدمی تھے۔