Sunan Abi Dawood Hadith 2990 (سنن أبي داود)

[2990] إسنادہ ضعیف

دخیل مستور (تقریب التہذیب: 1822)

انوار الصحیفہ ص 108

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْقُرَشِيُّ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي ابْنَ عِيسَی كُنَّا نَقُولُ إِنَّہ مِنْ الْأَبْدَالِ قَبْلَ أَنْ نَسْمَعَ أَنَّ الْأَبْدَالَ مِنْ الْمَوَالِي قَالَ حَدَّثَنِي الدَّخِيلُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ نُوحِ بْنِ مُجَّاعَةَ عَنْ ہِلَالِ بْنِ سِرَاجِ بْنِ مُجَّاعَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ جَدِّہِ مُجَّاعَةَ أَنَّہُ أَتَی النَّبِيَّ ﷺ يَطْلُبُ دِيَةَ أَخِيہِ قَتَلَتْہُ بَنُو سَدُوسٍ مِنْ بَنِي ذُہْلٍ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لَوْ كُنْتُ جَاعِلًا لِمُشْرِكٍ دِيَةً جَعَلْتُ لِأَخِيكَ وَلَكِنْ سَأُعْطِيكَ مِنْہُ عُقْبَی فَكَتَبَ لَہُ النَّبِيُّ ﷺ بِمِائَةٍ مِنْ الْإِبِلِ مِنْ أَوَّلِ خُمُسٍ يَخْرُجُ مِنْ مُشْرِكِي بَنِي ذُہْلٍ فَأَخَذَ طَائِفَةً مِنْہَا وَأَسْلَمَتْ بَنُو ذُہْلٍ فَطَلَبَہَا بَعْدُ مُجَّاعَةُ إِلَی أَبِي بَكْرٍ وَأَتَاہُ بِكِتَابِ النَّبِيِّ ﷺ فَكَتَبَ لَہُ أَبُو بَكْرٍ بِاثْنَيْ عَشَرَ أَلْفَ صَاعٍ مِنْ صَدَقَةِ الْيَمَامَةِ أَرْبَعَةِ آلَافٍ بُرًّا وَأَرْبَعَةِ آلَافٍ شَعِيرًا وَأَرْبَعَةِ آلَافٍ تَمْرًا وَكَانَ فِي كِتَابِ النَّبِيِّ ﷺ لِمُجَّاعَةَ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ہَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ لِمُجَّاعَةَ بْنِ مَرَارَةَ مِنْ بَنِي سُلْمَی إِنِّي أَعْطَيْتُہُ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ مِنْ أَوَّلِ خُمُسٍ يَخْرُجُ مِنْ مُشْرِكِي بَنِي ذُہْلٍ عُقْبَةً مِنْ أَخِيہِ

مجاعہ (بن مرارہ حنفی یمامی رضی اللہ عنہ-مجاعہ کی میم پر پیش اور جیم مشدد ہے) سے مروی ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کیا اور ان کو نبی کریم ﷺ کی تحریر پیش کر دی۔چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے یمامہ کے صدقہ سے بارہ ہزار صاع لکھ دئیے چار ہزار صاع گندم ‘ چار ہزار صاع جو اور چار ہزار صاع کھجور۔نبی کریم ﷺ کی وہ تحریر جو آپ نے مجاعہ کو لکھ کر دی تھی اس کا مضمون یہ تھا ((بسم اللہ الرحمن الرحیم)) ’’یہ تحریر محمد نبی کریم ﷺ کی جانب سے بنو سلمی کے مجاعہ بن مرارہ کے لیے لکھی گئی ہے کہ میں نے اسے اس کے (مقتول) بھائی کے عوض میں ایک سو اونٹ عطا کیے ہیں ‘ جو کہ بنو ذہل کے مشرکین سے حاصل ہونے والے پہلے خمس میں سے ادا کر دیے جائیں گے۔‘‘