Sunan Abi Dawood Hadith 2999 (سنن أبي داود)
[2999]صحیح
الصحابي اسمہ النمر بن تولب الشاعر
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ حَدَّثَنَا قُرَّةُ قَالَ سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللہِ قَالَ كُنَّا بِالْمِرْبَدِ فَجَاءَ رَجُلٌ أَشْعَثُ الرَّأْسِ بِيَدِہِ قِطْعَةُ أَدِيمٍ أَحْمَرَ فَقُلْنَا كَأَنَّكَ مِنْ أَہْلِ الْبَادِيَةِ فَقَالَ أَجَلْ قُلْنَا نَاوِلْنَا ہَذِہِ الْقِطْعَةَ الْأَدِيمَ الَّتِي فِي يَدِكَ فَنَاوَلَنَاہَا فَقَرَأْنَاہَا فَإِذَا فِيہَا مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللہِ إِلَی بَنِي زُہَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ إِنَّكُمْ إِنْ شَہِدْتُمْ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ وَأَقَمْتُمْ الصَّلَاةَ وَآتَيْتُمْ الزَّكَاةَ وَأَدَّيْتُمْ الْخُمُسَ مِنْ الْمَغْنَمِ وَسَہْمَ النَّبِيِّ ﷺ الصَّفِيَّ أَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللہِ وَرَسُولِہِ فَقُلْنَا مَنْ كَتَبَ لَكَ ہَذَا الْكِتَابَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ
جناب یزید بن عبداللہ (عبداللہ بن الشخیر) بیان کرتے ہیں کہ ہم (بصرہ کے محلہ) مربد میں تھے کہ ایک شخص آیا۔اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے اور وہ ہاتھ میں سرخ چمڑے کا ایک ٹکڑا لیے ہوئے تھا۔ہم نے کہا: تم گویا دیہات کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ہم نے کہا: یہ تیرے ہاتھ میں چمڑے کا ٹکڑا کیسا ہے،ذرا ہمیں دکھاؤ؟ وہ اس نے ہمیں دے دیا۔ہم نے اسے پڑھا تو اس میں تحریر تھا ’’محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کے لیے۔تم لوگ اگر ((لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ)) کی شہادت دو ‘ نماز قائم کرو ‘ زکوٰۃ ادا کرو ‘ غنیمت میں سے پانچواں حصہ (خمس) اور نبی کریم ﷺ کا حصہ خاص ((صفی)) ادا کرو ‘ تو اﷲ اور اس کے رسول کی امان سے امن میں ہو۔‘‘ ہم نے پوچھا: تمہیں یہ تحریر کس نے دی ہے؟ اس نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے۔