Sunan Abi Dawood Hadith 2998 (سنن أبي داود)
[2998]صحیح
صحیح بخاری (2893) صحیح مسلم (1365 بعد ح1427)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ح و حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ الْمَعْنَی قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُہَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جُمِعَ السَّبْيُ يَعْنِي بِخَيْبَرَ فَجَاءَ دِحْيَةُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنْ السَّبْيِ قَالَ اذْہَبْ فَخُذْ جَارِيَةً فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللہِ أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ قَالَ يَعْقُوبُ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ ثُمَّ اتَّفَقَا مَا تَصْلُحُ إِلَّا لَكَ قَالَ ادْعُوہُ بِہَا فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْہَا النَّبِيُّ ﷺ قَالَ لَہُ خُذْ جَارِيَةً مِنْ السَّبْيِ غَيْرَہَا وَإِنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَعْتَقَہَا وَتَزَوَّجَہَا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خیبر میں قیدیوں کو جمع کیا گیا ‘ تو سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: اسے اﷲ کے رسول! مجھے قیدیوں میں سے ایک لونڈی عنایت فرما دیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’جاؤ اور ایک لونڈی لے لو۔‘‘ تو انہوں نے صفیہ بنت حیی کو چن لیا۔پھر ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا: اے اﷲ کے نبی! آپ نے صفیہ بنت حیی کو سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا ہے۔وہ قریظ اور نضیر (یہودی قبیلوں) کی سردار ہے (سردار کی بیٹی ہے) یہ صرف آپ ہی کے زیبا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’دحیہ کو بلاؤ۔‘‘ اسے لے کر آئے۔جب نبی کریم ﷺ نے صفیہ کو دیکھا تو دحیہ سے فرمایا ’’قیدیوں میں سے اس کے علاوہ کوئی اور لونڈی لے لو۔‘‘ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اسے آزاد کر دیا اور پھر اس سے نکاح کر لیا۔