Sunan Abi Dawood Hadith 3005 (سنن أبي داود)
[3005]صحیح
صحیح بخاری (4028) صحیح مسلم (1766)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ يَہُودَ النَّضِيرِ وَقُرَيْظَةَ حَارَبُوا رَسُولَ اللہِ ﷺ فَأَجْلَی رَسُولُ اللہِ ﷺ بَنِي النَّضِيرِ وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنَّ عَلَيْہِمْ حَتَّی حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَتَلَ رِجَالَہُمْ وَقَسَمَ نِسَاءَہُمْ وَأَوْلَادَہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا بَعْضَہُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللہِ ﷺ فَأَمَّنَہُمْ وَأَسْلَمُوا وَأَجْلَی رَسُولُ اللہِ ﷺ يَہُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّہُمْ بَنِي قَيْنُقَاعَ وَہُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَلَامٍ وَيَہُودَ بَنِي حَارِثَةَ وَكُلَّ يَہُودِيٍّ كَانَ بِالْمَدِينَةِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے جنگ کی (رسول اللہ ﷺ کے خلاف سازشیں کیں) تو رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو مدینہ سے نکال باہر کیا اور بنو قریظہ کو ان کے گھروں میں رہنے دیا اور ان پر احسان فرمایا۔حتیٰ کہ بنو قریظہ نے بعد میں جنگ کی (غزوہ احزاب کے موقع پر کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور دھوکہ دیا) تو ان کے جنگجو مرد قتل کر دئیے گئے اور ان کی عورتوں ‘ بچوں اور اموال کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا گیا ‘ سوائے ان بعض لوگوں کے جو (کاروائی سے پہلے) رسول اللہ ﷺ سے آ ملے تھے تو آپ ﷺ نے ان کو امان دی اور وہ اسلام لے آئے (اور قتل سے بچ گئے)۔رسول اللہ ﷺ نے بنو قینقاع اور بنو حارثہ کے سب یہودیوں کو جو مدینہ میں رہ رہے تھے باہر نکال دیا۔بنو قینقاع سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی قوم تھی۔