Sunan Abi Dawood Hadith 3006 (سنن أبي داود)

[3006] إسنادہ ضعیف

حماد بن سلمۃ شک في اتصالہ

وحدیث البخاري (273) صحیح ولم یذکرالمتن واللہ أعلم

انوار الصحیفہ ص 109

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ أَحْسَبُہُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَاتَلَ أَہْلَ خَيْبَرَ فَغَلَبَ عَلَی النَّخْلِ وَالْأَرْضِ وَأَلْجَأَہُمْ إِلَی قَصْرِہِمْ فَصَالَحُوہُ عَلَی أَنَّ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ الصَّفْرَاءَ وَالْبَيْضَاءَ وَالْحَلْقَةَ وَلَہُمْ مَا حَمَلَتْ رِكَابُہُمْ عَلَی أَنْ لَا يَكْتُمُوا وَلَا يُغَيِّبُوا شَيْئًا فَإِنْ فَعَلُوا فَلَا ذِمَّةَ لَہُمْ وَلَا عَہْدَ فَغَيَّبُوا مَسْكًا لِحُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ وَقَدْ كَانَ قُتِلَ قَبْلَ خَيْبَرَ كَانَ احْتَمَلَہُ مَعَہُ يَوْمَ بَنِي النَّضِيرِ حِينَ أُجْلِيَتْ النَّضِيرُ فِيہِ حُلِيُّہُمْ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لِسَعْيَةَ أَيْنَ مَسْكُ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ قَالَ أَذْہَبَتْہُ الْحُرُوبُ وَالنَّفَقَاتُ فَوَجَدُوا الْمَسْكَ فَقَتَلَ ابْنَ أَبِي الْحُقَيْقِ وَسَبَی نِسَاءَہُمْ وَذَرَارِيَّہُمْ وَأَرَادَ أَنْ يُجْلِيَہُمْ فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ دَعْنَا نَعْمَلْ فِي ہَذِہِ الْأَرْضِ وَلَنَا الشَّطْرُ مَا بَدَا لَكَ وَلَكُمْ الشَّطْرُ وَكَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يُعْطِي كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِہِ ثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اہل خیبر سے جنگ کی ‘ ان کی کھجوریں اور زمینیں آپ ﷺ کے قبضے میں آ گئیں اور انہیں اپنے قلعے میں محصور ہو جانے پر مجبور کر دیا گیا۔تو انہوں نے آپ ﷺ سے مصالحت کر لی کہ تمام زرد و سفید (سونا چاندی) اور اسلحہ رسول اللہ ﷺ کے لیے ہو گا اور دیگر اسباب جو ان کے اونٹ اٹھا سکیں اٹھا لے جائیں گے اور کوئی چیز چھپائیں گے نہیں اور نہ غائب کریں گے۔اگر ایسا کیا تو ان کے لیے کوئی ذمہ اور عہد نہ رہے گا۔مگر انہوں نے چمڑے کا ایک بورا غائب کر دیا جو حییی بن اخطب کا تھا اور وہ خود خیبر سے پہلے قتل ہو گیا تھا۔وہ یہ بورا بنو نضیر کے مدینہ سے جلا وطن کیے جانے کے موقع پر اٹھا کر لایا تھا ‘ اس بورے میں ان لوگوں کے زیوارت تھے۔نبی کریم ﷺ نے سعیہ (یہودی) سے کہا: ’’حییی بن اخطب کا بورا کہاں ہے؟‘‘ اس نے کہا: وہ جنگوں میں اور دوسرے اخراجات میں خرچ ہو گیا ہے۔مگر صحابہ نے اسے ڈھونڈ نکالا۔تب ابن ابی الحقیق کو قتل کیا گیا ‘ ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا اور انہیں وہاں سے جلا وطن کرنے کا ارادہ کر لیا ‘ تو انہوں کے کہا: اے محمد! ہمیں یہاں رہنے دیں ہم اس زمین میں محنت کریں گے اور جب تک آپ (ہمیں رکھنا) چاہیں گے اس کی آمدنی کا آدھا ہم لیں گے اور آدھا آپ کو دیں گے۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ (اس پیداوار میں سے) اپنی بیویوں میں سے ہر ایک کو اسی (80) وسق کھجور اور بیس (20) وسق جو دیا کرتے تھے۔