Sunan Abi Dawood Hadith 3022 (سنن أبي داود)

[3022] إسنادہ ضعیف

بعض أھلہ مجھول

والحدیث السابق (الأصل: 3021) یغني عنہ

انوار الصحیفہ ص 110

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ بَعْضِ أَہْلِہِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَرَّ الظَّہْرَانِ قَالَ الْعَبَّاسُ قُلْتُ وَاللہِ لَئِنْ دَخَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَكَّةَ عَنْوَةً قَبْلَ أَنْ يَأْتُوہُ فَيَسْتَأْمِنُوہُ إِنَّہُ لَہَلَاكُ قُرَيْشٍ فَجَلَسْتُ عَلَی بَغْلَةِ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَقُلْتُ لَعَلِّي أَجِدُ ذَا حَاجَةٍ يَأْتِي أَہْلَ مَكَّةَ فَيُخْبِرُہُمْ بِمَكَانِ رَسُولِ اللہِ ﷺ لِيَخْرُجُوا إِلَيْہِ فَيَسْتَأْمِنُوہُ فَإِنِّي لَأَسِيرُ إِذْ سَمِعْتُ كَلَامَ أَبِي سُفْيَانَ وَبُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَنْظَلَةَ فَعَرَفَ صَوْتِي فَقَالَ أَبُو الْفَضْلِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ مَا لَكَ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي قُلْتُ ہَذَا رَسُولُ اللہِ ﷺ وَالنَّاسُ قَالَ فَمَا الْحِيلَةُ قَالَ فَرَكِبَ خَلْفِي وَرَجَعَ صَاحِبُہُ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَوْتُ بِہِ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَأَسْلَمَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ يُحِبُّ ہَذَا الْفَخْرَ فَاجْعَلْ لَہُ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَہُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَغْلَقَ عَلَيْہِ دَارَہُ فَہُوَ آمِنٌ وَمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَہُوَ آمِنٌ قَالَ فَتَفَرَّقَ النَّاسُ إِلَی دُورِہِمْ وَإِلَی الْمَسْجِدِ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب مرالظہران کے مقام پر پڑاؤ ڈالا ‘ تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے قسم! اگر رسول اللہ ﷺ اپنی قوت کے زور پر مکہ میں داخل ہو گئے اور اس سے پہلے اہل مکہ آپ ﷺ کے پاس نہ آئے اور امان نہ مانگی تو اس میں قریش کی بہت بڑی ہلاکت ہے ‘ چنانچہ میں رسول اللہ ﷺ کے خچر پر بیٹھ کر باہر نکلا ‘ میں نے سوچا شاید مجھے کوئی شخص مل جائے جو کسی کام سے نکلا ہو تو وہ اہل مکہ کے پاس جائے ‘ انہیں رسول اللہ ﷺ کی آمد کے متعلق خبردار کر دے اور وہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو جائیں اور امان طلب کر لیں۔چنانچہ میں چلا جا رہا تھا کہ ابوسفیان اور بدیل بن ورقاء کو گفتگو کرتے سنا۔میں نے کہا: اے ابوحنظلہ! (یہ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) اس نے میری آواز پہچان لی اور کہا: ابوالفضل؟ (یہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) میں نے کہا: ہاں،اس نے کہا: کیا ہوا؟ میرے ماں باپ تجھ پر فدا۔میں نے کہا: یہ اللہ کے رسول ہیں اور لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ ہیں۔اس نے پوچھا: تو اب کیا حیلہ ہے؟ چنانچہ ابوسفیان میرے پیچھے خچر پر بیٹھ گیا اور اس کا دوسرا ساتھی واپس چلا گیا۔جب صبح ہوئی تو میں اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو اور اس نے اسلام قبول کر لیا۔میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابوسفیان ایسا آدمی ہے جسے فخر اور بڑائی پسند ہے تو آپ اس کے لیے کوئی چیز خاص فرما دیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’ہاں ‘ جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے اسے امان ہے ‘ جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے اسے امان ہے ‘ اور جو شخص مسجد میں داخل ہو جائے اسے امان ہے۔‘‘ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: پھر لوگ اپنے گھروں اور مسجد میں بکھر گئے۔