Sunan Abi Dawood Hadith 3021 (سنن أبي داود)
[3021]صحیح
وللحدیث شاھد عند مسلم (1780)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ عَامَ الْفَتْحِ جَاءَہُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بِأَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ فَأَسْلَمَ بِمَرِّ الظَّہْرَانِ فَقَالَ لَہُ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ يُحِبُّ ہَذَا الْفَخْرِ فَلَوْ جَعَلْتَ لَہُ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَہُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَغْلَقَ عَلَيْہِ بَابَہُ فَہُوَ آمِنٌ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ابوسفیان بن حرب کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے آئے چنانچہ انہوں نے مرالظہران کے مقام پر اسلام قبول کر لیا۔سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا اے اللہ کے رسول ابوسفیان ایسا آدمی ہے جسے فخر اور بڑائی پسند ہے اگر آپ ﷺ اس کے لیے کوئی چیز خاص فرما دیں تو (مناسب ہو گا۔) آپ ﷺ نے فرمایا ہاں جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے اسے امان ہے اور جو اپنے گھر میں دروازہ بند کر کے بیٹھ رہے وہ امان میں ہے۔