Sunan Abi Dawood Hadith 3024 (سنن أبي داود)
[3024]إسنادہ صحیح
انظر الحدیث السابق (1872)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
َدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ،حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ،حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ،سَرَّحَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ،وَأَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ،وَخَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ،عَلَی الْخَيْلِ،وَقَالَ: يَا أَبَا ہُرَيْرَةَ! اہْتِفْ بِالْأَنْصَارِ،قَالَ: اسْلُكُوا ہَذَا الطَّرِيقَ،فَلَا يَشْرُفَنَّ لَكُمْ أَحَدٌ،إِلَّا أَنَمْتُمُوہُ،فَنَادَی مُنَادٍ: لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ! فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: مَنْ دَخَلَ دَارًا فَہُوَ آمِنٌ،وَمَنْ أَلْقَی السِّلَاحَ فَہُوَ آمِنٌ. وَعَمَدَ صَنَادِيدُ قُرَيْشٍ،فَدَخَلُوا الْكَعْبَةَ،فَغَصَّ بِہِمْ،وَطَافَ النَّبِيُّ ﷺ وَصَلَّی خَلْفَ الْمَقَامِ،ثُمَّ أَخَذَ بِجَنْبَتَيِ الْبَابِ،فَخَرَجُوا،فَبَايَعُوا النَّبِيَّ ﷺ عَلَی الْإِسْلَامِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مکے میں داخل ہوئے تو سیدنا زبیر بن عوام،ابوعبیدہ بن جراح اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہم کو گھڑ سواروں کا امیر بنایا۔آپ ﷺ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا ’’انصار کو بلاؤ۔‘‘ (وہ جمع ہو گئے تو) ان سے فرمایا ’’تم لوگ یہ راستہ لو اور جو بھی تمہارے سامنے سر اٹھانے کی کوشش کرے اسے سلا دو (جو بھی اسلحہ سے مقابلہ کرے اس کو قتل کر دو)۔‘‘ چنانچہ ایک منادی نے اعلان کیا: آج کے بعد قریش نہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جو شخص اپنے گھر میں داخل ہو جائے اسے امان ہے اور جو ہتھیار پھینک دے اسے امان ہے۔’’قریش کے بڑوں نے کعبہ کا رخ کیا اور اس میں جا داخل ہوئے اور وہ ان سے کھچا کھچ بھر گیا۔نبی کریم ﷺ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی پھر کعبہ کے دروازے کی چوکھٹ پکڑ کر کھڑے ہو گئے تو وہ لوگ نکل آئے اور نبی کریم ﷺ سے اسلام پر بیعت لی۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سنا کہ ایک آدمی نے ان سے سوال کیا تھا کہ آیا مکہ بزور قوت (جنگ سے) فتح ہوا تھا؟ تو انہوں نے کہا: جو بھی ہو تمہیں اس کا کیا نقصان ہے؟ اس نے کہا: کیا صلح ہوئی تھی؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔