Sunan Abi Dawood Hadith 3027 (سنن أبي داود)

[3027] إسنادہ ضعیف

مجالد ضعیف

ضعفہ الجمہور من جھۃ حفظہ

انوار الصحیفہ ص 110

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ شَہْرٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَقَالَتْ لِي ہَمْدَانُ ہَلْ أَنْتَ آتٍ ہَذَا الرَّجُلَ وَمُرْتَادٌ لَنَا فَإِنْ رَضِيتَ لَنَا شَيْئًا قَبِلْنَاہُ وَإِنْ كَرِہْتَ شَيْئًا كَرِہْنَاہُ قُلْتُ نَعَمْ فَجِئْتُ حَتَّی قَدِمْتُ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَرَضِيتُ أَمْرَہُ وَأَسْلَمَ قَوْمِي وَكَتَبَ رَسُولُ اللہِ ﷺ ہَذَا الْكِتَابَ إِلَی عُمَيْرٍ ذِي مَرَّانٍ قَالَ وَبَعَثَ مَالِكَ بْنَ مِرَارَةَ الرَّہَاوِيَّ إِلَی الْيَمَنِ جَمِيعًا فَأَسْلَمَ عَكٌّ ذُو خَيْوَانَ قَالَ فَقِيلَ لِعَكٍّ انْطَلِقْ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَخُذْ مِنْہُ الْأَمَانَ عَلَی قَرْيَتِكَ وَمَالِكَ فَقَدِمَ وَكَتَبَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللہِ لِعَكٍّ ذِي خَيْوَانَ إِنْ كَانَ صَادِقًا فِي أَرْضِہِ وَمَالِہِ وَرَقِيقِہِ فَلَہُ الْأَمَانُ وَذِمَّةُ اللہِ وَذِمَّةُ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللہِ وَكَتَبَ خَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ

سیدنا عامر بن شہر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی نبوت کا اعلان کیا تو قبیلہ ہمدان کے لوگوں نے مجھ سے کہا: کیا تم اس شخص (یعنی محمد رسول اللہ ﷺ) کے پاس جا کر ہمارے متعلق گفتگو کر سکتے ہو؟ جس چیز پر تم راضی ہو جاؤ گے ہم اسے قبول کر لیں گے اور جسے تم ناپسند کرو گے ہم بھی اسے ناپسند کریں گے۔میں نے کہا: ہاں۔چنانچہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو مجھے آپ کا معاملہ پسند آیا اور میری قوم نے اسلام قبول کر لیا۔رسول اللہ ﷺ نے عمیر ذی مران کے طرف یہ خط لکھا۔(ہوا یہ تھا کہ) آپ ﷺ نے مالک بن مرارہ رہاوی کو تمام اہل یمن کی طرف اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا تھا۔پس ایک شخص عک ذوخیوان نے اسلام قبول کر لیا تو اسے کہا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جاؤ اور آپ ﷺ سے اپنی بستی اور مال کے لیے امان نامہ حاصل کر لو۔چنانچہ وہ آپ ﷺ کی خدمت میں آیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو یہ تحریر لکھ دی ’’((بسم اللہ الرحمن الرحیم)) محمد اللہ کے رسول (ﷺ) کی طرف سے عک ذی خیوان کے لیے یہ تحریر ہے کہ اگر یہ سچا ہو تو اسے اس کی زمین،مال اور غلاموں کے بارے میں امان حاصل ہے،اس کے لیے اللہ کا ذمہ ہے اور اللہ کے رسول محمد (ﷺ) کا ذمہ ہے۔‘‘ اور یہ تحریر خالد بن سعید بن العاص نے قلمبند کی۔