Sunan Abi Dawood Hadith 3026 (سنن أبي داود)

[3026] إسنادہ ضعیف

حمید الطویل والحسن البصري عنعنا

انوار الصحیفہ ص 110

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ مَنْجُوفٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ لَمَّا قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ أَنْزَلَہُمْ الْمَسْجِدَ لِيَكُونَ أَرَقَّ لِقُلُوبِہِمْ فَاشْتَرَطُوا عَلَيْہِ أَنْ لَا يُحْشَرُوا وَلَا يُعْشَرُوا وَلَا يُجَبَّوْا فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ لَكُمْ أَنْ لَا تُحْشَرُوا وَلَا تُعْشَرُوا وَلَا خَيْرَ فِي دِينٍ لَيْسَ فِيہِ رُكُوعٌ

سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ثقیف کا وفد جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے انہیں مسجد (مسجد نبوی) میں ٹھہرایا تاکہ یہ ان کے دلوں کو زیادہ نرم کرنے کا باعث ہو،چنانچہ ان لوگوں نے یہ شرط کی کہ انہیں جہاد کے لیے نہیں بلایا جائے گا،نہ ان سے صدقات لیے جائیں گے اور نہ یہ لوگ نماز پڑھیں گے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’یہ تو ہو سکتا ہے کہ تمہیں جہاد کے لیے نہ بلایا جائے یا صدقات نہ لیے جائیں مگر اس دین میں کوئی خیر نہیں جس میں رکوع (نماز) نہ ہو۔‘‘