Sunan Abi Dawood Hadith 3041 (سنن أبي داود)

[3041] إسنادہ ضعیف

وفي سماع إسماعیل السدي من ابن عباس نظر کما قال المنذري (عون المعبود 133/3)

انوار الصحیفہ ص 111

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو الْيَامِيُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْہَمْدَانِيُّ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَالَحَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَہْلَ نَجْرَانَ عَلَی أَلْفَيْ حُلَّةٍ النِّصْفُ فِي صَفَرٍ وَالْبَقِيَّةُ فِي رَجَبٍ يُؤَدُّونَہَا إِلَی الْمُسْلِمِينَ وَعَوَرِ ثَلَاثِينَ دِرْعًا وَثَلَاثِينَ فَرَسًا وَثَلَاثِينَ بَعِيرًا وَثَلَاثِينَ مِنْ كُلِّ صِنْفٍ مِنْ أَصْنَافِ السِّلَاحِ يَغْزُونَ بِہَا وَالْمُسْلِمُونَ ضَامِنُونَ لَہَا حَتَّی يَرُدُّوہَا عَلَيْہِمْ إِنْ كَانَ بِالْيَمَنِ كَيْدٌ أَوْ غَدْرَةٌ عَلَی أَنْ لَا تُہْدَمَ لَہُمْ بَيْعَةٌ وَلَا يُخْرَجَ لَہُمْ قَسٌّ وَلَا يُفْتَنُوا عَنْ دِينِہِمْ مَا لَمْ يُحْدِثُوا حَدَثًا أَوْ يَأْكُلُوا الرِّبَا قَالَ إِسْمَعِيلُ فَقَدْ أَكَلُوا الرِّبَا قَالَ أَبُو دَاوُد إِذَا نَقَضُوا بَعْضَ مَا اشْتُرِطَ عَلَيْہِمْ فَقَدْ أَحْدَثُوا

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل نجران سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ دو ہزار حلے (کپڑوں کے جوڑے) ادا کیا کریں گے۔آدھے ماہ صفر میں اور آدھے رجب میں۔علاوہ ازیں تیس زرہیں،تیس گھوڑے،تیس اونٹ اور ہر قسم کا اسلحہ جو جنگ میں استعمال ہوتا ہے تیس تیس کی تعداد میں عاریتاً دیا کریں گے اور مسلمان ان چیزوں کے واپس کرنے تک ان کے ضامن ہوں گے۔(یہ عاریت اس وقت لی جائے گی) جب یمن میں کوئی فساد یا غدر ہو (اور ان کی ضرورت پڑی) اور (ان کے ساتھ عہد تھا کہ) ان کا کوئی معبد نہیں گرایا جائے گا،کسی پادری کو نہیں نکالا جائے گا اور ان کے دین میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی جب تک کہ یہ دین میں کوئی نئی بات نہ نکالیں اور سود نہ کھائیں۔(راوی حدیث) اسمٰعیل (اسمٰعیل بن عبدالرحمٰن قرشی سدی) نے کہا: چنانچہ ان لوگوں نے سود کھایا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب وہ کوئی شرط توڑیں گے تو یہ دین میں نئی بات نکالنا ہو گا۔