Sunan Abi Dawood Hadith 3043 (سنن أبي داود)
[3043]صحیح
صحیح بخاری (3156، 3157)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْہَدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ سَمِعَ بَجَالَةَ يُحَدِّثُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ وَأَبَا الشَّعْثَاءِ قَالَ كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ إِذْ جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ قَبْلَ مَوْتِہِ بِسَنَةٍ اقْتُلُوا كُلَّ سَاحِرٍ وَفَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مَحْرَمٍ مِنْ الْمَجُوسِ وَانْہَوْہُمْ عَنْ الزَّمْزَمَةِ فَقَتَلْنَا فِي يَوْمٍ ثَلَاثَةَ سَوَاحِرَ وَفَرَّقْنَا بَيْنَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْ الْمَجُوسِ وَحَرِيمِہِ فِي كِتَابِ اللہِ وَصَنَعَ طَعَامًا كَثِيرًا فَدَعَاہُمْ فَعَرَضَ السَّيْفَ عَلَی فَخْذِہِ فَأَكَلُوا وَلَمْ يُزَمْزِمُوا وَأَلْقَوْا وِقْرَ بَغْلٍ أَوْ بَغْلَيْنِ مِنْ الْوَرِقِ وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ الْمَجُوسِ حَتَّی شَہِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَخَذَہَا مِنْ مَجُوسِ ہَجَرَ
جناب ابوشعثاء (جابر بن زائد رحمہ اللہ) نے کہا میں جزء بن معاویہ کا کاتب (سیکرٹری) تھا۔اور یہ جناب احنف بن قیس کے چچا تھے،(اس اثنا میں) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت سے ایک سال پہلے ہمارے پاس ان (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) کا ایک خط آیا۔اس میں تھا: ہر جادوگر کو قتل کر دو اور مجوسیوں میں سے جس کسی نے اپنی محرم عورت سے نکاح کیا ہو ان میں تفریق کرا دو اور انہیں (کھانے کے وقت) گنگنانے سے منع کر دو۔چنانچہ ہم نے ایک دن تین جادوگرنیوں کو قتل کیا اور کتاب اللہ کے مطابق جس کسی نے اپنی محرم عورت سے نکاح کر رکھا تھا ان میں جدائی کرا دی۔اور (جزء بن معاویہ نے) بہت سا کھانا تیار کروایا اور پھر انہیں دعوت دی اور اس دوران میں تلوار اپنی ران پر رکھ لی۔چنانچہ ان لوگوں نے کھانا کھایا مگر گنگنائے نہیں۔اور ان لوگوں نے ایک خچر یا دو خچروں کے بوجھ برابر چاندی ان (جزء بن معاویہ) کے سامنے ڈال دی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجوسیوں سے جزیہ لینے کے قائل نہ تھے حتیٰ کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجر (اہل ہجر) کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔